مغربی یورپ میں جاری شدید گرمی کی لہر نے جون کے تمام پرانے ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ اسپین سے لے کر الپس کے دامن تک، درجہ حرارت اس سطح پر پہنچ چکا ہے جو عام طور پر موسم گرما کے عروج میں دیکھی جاتی ہے۔ وقت سے پہلے آنے والی اس شدید گرمی نے نہ صرف معمولاتِ زندگی کو درہم برہم کر دیا ہے بلکہ بجلی کے نظام اور بنیادی ڈھانچے پر بھی شدید دباؤ ڈال دیا ہے۔
اسپین اور فرانس میں پارہ مسلسل 40 ڈگری سیلسیس (104 ڈگری فارن ہائیٹ) سے اوپر ریکارڈ کیا گیا، جس نے دہائیوں پرانے ریکارڈ کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ موسمیاتی ماہرین کے مطابق، براعظم کے اوپر ہوا کا ایک ایسا دباؤ بن چکا ہے جو گرم ہواؤں کو باہر نہیں نکلنے دے رہا۔ عالمی درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ اس رجحان کو مزید سنگین بنا رہا ہے۔
اس صورتحال کے معاشی اور انسانی اثرات نمایاں ہیں۔ فرانس کے زرعی علاقوں میں خشک سالی کے باعث فصلوں کی پیداوار متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ برطانیہ میں ریل حکام نے ٹریکس کو شدید گرمی سے ٹیڑھے ہونے سے بچانے کے لیے ٹرینوں کی رفتار کم کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔
موسمیاتی امور کی ماہر ڈاکٹر ایلینا روسی کہتی ہیں، "ہم اپنی آنکھوں کے سامنے موسم کے معمولات کو بدلتے دیکھ رہے ہیں۔ جو گرمی ہم جولائی کے وسط میں متوقع رکھتے تھے، وہ جون کے اوائل میں ہی آ چکی ہے۔ ان گرم لہروں کے درمیان بحالی کا وقت ختم ہو رہا ہے۔”
صحت عامہ کے حکام کے لیے صورتحال سنبھالنا مشکل ہو گیا ہے۔ اسپتالوں میں گرمی سے متاثرہ افراد، بالخصوص بزرگ شہریوں کی آمد میں اضافہ ہوا ہے۔ میڈرڈ میں حکام نے عوامی تالابوں کو وقت سے پہلے کھول دیا ہے اور ایئر کنڈیشنڈ کمیونٹی مراکز کے اوقات کار میں توسیع کر دی گئی ہے — یہ اقدامات عام طور پر جولائی اور اگست کے لیے مخصوص ہوتے ہیں۔
یہ صرف درجہ حرارت کا معاملہ نہیں، بلکہ اس کے وقت کا ہے۔ موسم گرما کے طویل ترین دن سے قبل آنے والی اس گرمی نے یورپی زراعت کے قدرتی توازن کو بگاڑ دیا ہے۔ اٹلی اور اسپین کے کئی ذخیرہ آب خطرناک حد تک نیچے آ چکے ہیں، جس سے آنے والے مہینوں میں پانی کی راشننگ کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
جیسے جیسے گرمی کی شدت میں وقتی کمی آ رہی ہے، ماہرینِ موسمیات خدشات کا شکار ہیں۔ وہ فضائی دباؤ جس نے اس ریکارڈ توڑ گرمی کو جنم دیا، اس میں کوئی بڑی تبدیلی نظر نہیں آ رہی، جس کے باعث پورے یورپ کو اب آنے والے مزید سخت دنوں کا سامنا ہے۔
