اسرائیل اور ترکی کے درمیان برسوں کی تلخی اب سرد مہری اور عملیت پسندی میں بدل رہی ہے۔ دونوں ممالک کے تعلقات میں آنے والی یہ تبدیلی کسی نظریاتی ہم آہنگی کا نتیجہ نہیں، بلکہ یہ وقت کی ضرورت اور بدلتے ہوئے علاقائی تقاضوں کا منطقی نتیجہ ہے۔
صدر رجب طیب اردوان، جو کبھی اسرائیل کی فلسطین پالیسی کے سخت ترین ناقد مانے جاتے تھے، اب اپنی حکمت عملی میں واضح تبدیلی لا چکے ہیں۔ عوامی سطح پر تنقید کا سلسلہ اگرچہ مکمل ختم نہیں ہوا، لیکن پسِ پردہ انٹیلی جنس تعاون اور تجارتی روابط میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔
اس تبدیلی کی سب سے بڑی وجہ بحیرہ روم کے توانائی کے ذخائر ہیں۔ اسرائیل، یونان، قبرص اور مصر پر مشتمل ‘ایسٹ میڈ گیس فورم’ نے ترکی کو تنہا کر دیا تھا۔ انقرہ کے لیے اپنے علاقائی تنہائی کے حصار کو توڑنے کا واحد راستہ تل ابیب کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانا تھا۔
دوسری جانب، اسرائیل کے لیے ترکی ایک ایسا اہم علاقائی کھلاڑی ہے جسے نظر انداز کرنا ممکن نہیں۔ اسرائیلی حکام کا ماننا ہے کہ ترکی کے ساتھ تعلقات بحال کر کے ایران کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے سامنے ایک متوازن دیوار کھڑی کی جا سکتی ہے۔
ایک سابق اسرائیلی سفارت کار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "یہ دوستی کا معاملہ نہیں ہے۔ یہ اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش ہے کہ ترکی ہمارے مفادات کو نقصان نہ پہنچائے اور جہاں ممکن ہو، ہم اپنے لاجسٹک اہداف کے لیے ایک دوسرے کا ساتھ دیں۔”
تجارت کے اعداد و شمار اس حقیقت کی گواہی دیتے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی کشیدگی کے باوجود تجارتی حجم اربوں ڈالر تک برقرار رہا۔ کاروباری طبقے نے ہمیشہ سیاسی تعلقات کو مکمل ٹوٹ پھوٹ سے بچائے رکھا۔
تاہم، یہ نیا اتحاد انتہائی نازک ہے۔ فلسطین کے معاملے پر کوئی بھی نیا تناؤ صدر اردوان کو دوبارہ اسرائیل مخالف سخت بیانات کی طرف دھکیل سکتا ہے، کیونکہ ترکی کی داخلی سیاست میں فلسطینی کاز کی حمایت ایک طاقتور کارڈ کی حیثیت رکھتی ہے۔
یہ دوستی نہیں بلکہ مفادات کی ایک ایسی شادی ہے جس میں دونوں فریق جانتے ہیں کہ خطے میں امریکہ کا کردار غیر یقینی ہے اور علاقائی حریفوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ یہ ممالک ایک دوسرے کو پسند کرنے کی وجہ سے نہیں، بلکہ تنہائی سے بچنے کی مجبوری کے تحت ایک دوسرے کے قریب آ رہے ہیں۔
