اسکاٹ کارنی اب ٹرمپ کے طے کردہ اصولوں پر چلنے کو تیار نہیں۔ سابق صدر کے قریبی حلقوں سے منسلک ایک اہم ڈیل سے دستبردار ہو کر، اس تجربہ کار اسٹریٹجسٹ نے ایک ایسا راستہ اختیار کیا ہے جس میں خطرات بھی اتنے ہی ہیں جتنے کہ ممکنہ فوائد۔
یہ فیصلہ محض ایک استعفیٰ نہیں، بلکہ ایک واضح دوری اختیار کرنے کا عمل ہے۔ کارنی، جو سیاسی مذاکرات میں اپنے عملی اور محتاط انداز کے لیے جانے جاتے ہیں، نے معاہدے کی شفافیت پر پیدا ہونے والے اختلافات کے بعد میز چھوڑنے کو ترجیح دی۔ انہوں نے کوئی طویل وضاحتی بیان جاری نہیں کیا، بس خاموشی سے اس تعلق کو ختم کر دیا۔
یہ اقدام انہیں ایک غیر یقینی صورتحال میں لے آیا ہے۔ موجودہ سیاسی ماحول میں، ٹرمپ کے قریبی حلقوں سے تعلقات توڑنا آسان نہیں۔ کارنی کے سامنے اب سب سے بڑا چیلنج اپنی ساکھ کو بچانا اور اس شعبے میں اثر و رسوخ برقرار رکھنا ہے، جہاں وفاداری کو اکثر ‘یا تو ہمارے ساتھ یا ہمارے خلاف’ کی بنیاد پر پرکھا جاتا ہے۔
مذاکرات سے واقف ایک سابق ساتھی کا کہنا ہے کہ، "یہ ڈیل کاروباری سودے بازی سے نکل کر وفاداری کے امتحان میں بدل چکی تھی، اور اسکاٹ اس قسم کے امتحانات کے لیے نہیں بنے۔”
اس علیحدگی کے اثرات پرائیویٹ ایکویٹی اور سیاسی مشاورتی حلقوں میں واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ کارنی کے اس فیصلے نے ان اسٹیک ہولڈرز میں ہلچل مچا دی ہے جو یہ سوچ رہے ہیں کہ آیا یہ قدم ٹرمپ آرگنائزیشن کے نئے اور جارحانہ منصوبوں اور روایتی ریپبلکن اسٹریٹجسٹس کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کا نقطہ آغاز ہے۔
کارنی کے لیے اگلے چند ہفتے فیصلہ کن ہوں گے۔ انہیں اب ایسے نئے سرمایہ کاروں یا مشاورتی پروجیکٹس کی ضرورت ہے جو ان کے اس فیصلے کی تائید کر سکیں۔ اگر وہ اس بحران سے نکلنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں، تو وہ دوسرے مشیروں کے لیے ایک مثال بن جائیں گے جو ٹرمپ کے غیر متوقع فیصلوں سے خود کو الگ کرنا چاہتے ہیں۔ اگر وہ ناکام ہوئے، تو یہ ان لوگوں کے لیے ایک انتباہ ہوگا جو سابق صدر کے وسیع نیٹ ورک کو چیلنج کرنے کی ہمت کرتے ہیں۔
فی الحال، کارنی یہ جوا کھیل رہے ہیں کہ ان کی دیانتداری کی ساکھ، رسائی کے حصول سے زیادہ قیمتی ہے۔ اس شہر میں، جہاں ‘پہنچ’ ہی سب سے بڑی کرنسی سمجھی جاتی ہے، یہ ایک بڑا رسک ہے۔
مارکیٹ کارنی کے کسی بھی جواز کا انتظار نہیں کرے گی۔ ان کا اگلا قدم ہی یہ طے کرے گا کہ آیا یہ ایک حکمت عملی کے تحت پیچھے ہٹنا تھا یا کیریئر کا ایک ایسا فیصلہ جس کی قیمت انہیں طویل عرصے تک چکانی پڑے گی۔
