2025 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والا تنازع چند ہی دنوں پر محیط تھا، مگر اس کی بنیاد اس سے پہلے پڑ چکی تھی۔ 22 اپریل 2025 کو بھارتی زیرِ انتظام کشمیر کے علاقے پہلگام میں مسلح حملہ آوروں نے کم از کم 26 افراد کو قتل کر دیا، جن میں زیادہ تر سیاح تھے۔ اس واقعے نے پورے خطے میں شدید ردِعمل پیدا کیا اور دونوں جوہری ہمسایہ ممالک کے درمیان سفارتی اور پھر عسکری کشیدگی کو تیزی سے بڑھا دیا۔
22 اپریل 2025: پہلگام حملہ
پہلگام کے قریب بَیسران میڈو میں حملہ آوروں نے سیاحوں پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں کم از کم 26 افراد ہلاک اور کئی زخمی ہوئے۔ یہ حالیہ برسوں میں کشمیر میں شہریوں پر ہونے والے مہلک ترین حملوں میں شمار کیا گیا۔ بھارت میں اس کے بعد سخت ردِعمل سامنے آیا، جبکہ پاکستان نے اس واقعے سے کسی بھی تعلق کی تردید کی۔
اپریل کے آخری دن: سفارتی بحران گہرا گیا
حملے کے بعد چند دنوں میں کشیدگی صرف بیانات تک محدود نہ رہی۔ بھارت نے پاکستان کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کیا، جن میں سندھ طاس معاہدے کی معطلی بھی شامل تھی، جبکہ دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے خلاف جوابی سفارتی اقدامات کیے۔ یوں یہ معاملہ صرف ایک حملے کے ردِعمل سے نکل کر ریاستی سطح کے بحران میں بدل گیا۔
7 مئی 2025: آپریشن سندور
7 مئی کو تنازع کھل کر عسکری مرحلے میں داخل ہوا، جب بھارت نے کہا کہ اس نے آپریشن سندور کے تحت پاکستان اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں نو مقامات کو نشانہ بنایا۔ بھارت نے اسے محدود اور مخصوص کارروائی قرار دیا اور کہا کہ ہدف عسکری تنصیبات نہیں بلکہ شدت پسندوں کا ڈھانچہ تھا۔ پاکستان نے اس کے برعکس کہا کہ شہری علاقے متاثر ہوئے اور جانی نقصان ہوا۔ اسی روز فضائی جھڑپوں اور سرحدی گولہ باری کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔
8 اور 9 مئی: ڈرون، میزائل اور بڑھتا ہوا خوف
اس کے بعد دونوں ملکوں نے ایک دوسرے پر ڈرون، میزائل اور گولہ باری کے الزامات عائد کیے۔ رائٹرز کی بعد کی reconstruction کے مطابق خطہ ایک خطرناک موڑ پر پہنچ گیا تھا، جہاں میزائل حملوں، ڈرون کارروائیوں اور مزید تصادم کے خدشات نے ماحول کو نہایت سنگین بنا دیا۔ سرحدی علاقوں میں شہری خوف و ہراس میں تھے اور یہ تاثر مضبوط ہو رہا تھا کہ واقعات سفارت کاری سے زیادہ تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔
10 مئی 2025: جنگ بندی کا اعلان
10 مئی کو امریکہ کی ثالثی کی کوششوں کے بعد پاکستان اور بھارت نے فوری جنگ بندی پر اتفاق کیا۔ اس پیش رفت کا اعلان امریکی حکام نے کیا، جس کے بعد دونوں ممالک نے بھی اس کی توثیق کی۔ یہ ایک اہم موڑ تھا، کیونکہ اس سے چند گھنٹے پہلے تک صورتحال مزید بگڑتی ہوئی دکھائی دے رہی تھی۔ جنگ بندی کا اطلاق خشکی، فضا اور سمندر تینوں محاذوں پر ہونا تھا۔
چند گھنٹوں بعد: خلاف ورزیوں کے الزامات
تاہم سکون زیادہ دیر قائم نہ رہ سکا۔ جنگ بندی کے اعلان کے چند ہی گھنٹوں بعد بھارت نے پاکستان پر خلاف ورزیوں کا الزام لگایا، جبکہ پاکستان نے کہا کہ وہ جنگ بندی پر قائم ہے اور نئی کشیدگی کا ذمہ دار بھارت ہے۔ کشمیر سے دھماکوں اور نئی بے چینی کی اطلاعات آئیں۔ اس سے یہ واضح ہوا کہ جنگ بندی تو ہو گئی تھی، مگر اس کے ابتدائی گھنٹے بھی غیر یقینی سے بھرے ہوئے تھے۔
بعد کے اثرات: مختصر جنگ، طویل سایہ
اگرچہ براہِ راست لڑائی مختصر مدت تک رہی، لیکن اس بحران نے دونوں ملکوں کے تعلقات پر گہرا اثر چھوڑا۔ عسکری دعوے، سیاسی بیانیے اور کشمیر سے جڑے سکیورٹی خدشات مزید سخت ہو گئے۔ بعد کی رپورٹنگ اور سرکاری بیانات سے یہ بھی واضح ہوا کہ دونوں طرف اپنی اپنی کامیابی کا دعویٰ کیا گیا، جبکہ بیرونی طاقتیں حالات کو مزید بگڑنے سے روکنے کی کوشش کرتی رہیں۔
اس تنازع کی اصل پہچان کیا تھی؟
2025 کے اس تنازعے کو خطرناک بنانے والی بات صرف یہ نہیں تھی کہ لڑائی ہوئی، بلکہ یہ تھی کہ حالات کتنی تیزی سے بگڑے۔ پہلے پہلگام کا حملہ ہوا۔ پھر سفارتی تعلقات بگڑے۔ پھر فضائی اور میزائل حملے، ڈرون الزامات اور سرحدی جھڑپیں ہوئیں۔ اور پھر اچانک جنگ بندی کا اعلان آ گیا۔ یہ تنازع مختصر ضرور تھا، مگر اس نے ایک بار پھر یاد دلایا کہ جنوبی ایشیا میں بحران اور کھلی جنگ کے درمیان فاصلہ بہت کم رہ گیا ہے۔
