پاکستان میں ایچ آئی وی کے بڑھتے ہوئے کیسز کے بارے میں سابق وزیر کا انتباہ محض سیاسی بیان نہیں لگتا، بلکہ تازہ سرکاری اعداد و شمار اور عالمی اداروں کی تشویش بھی اسی سمت اشارہ کرتی ہے۔ قومی اسمبلی کو حال ہی میں بتایا گیا کہ ملک میں 84,421 رجسٹرڈ ایچ آئی وی کیسز موجود ہیں۔ نیشنل ایڈز کنٹرول پروگرام کے مطابق یہ اعداد و شمار دسمبر 2025 تک کے ہیں، جبکہ ان میں سے 60,785 افراد علاج کے لیے اینٹی ریٹرو وائرل تھراپی پر ہیں۔
لیکن رجسٹرڈ تعداد پوری تصویر نہیں دکھاتی۔ نیشنل ایڈز کنٹرول پروگرام کی اپنی معلومات کے مطابق پاکستان میں تقریباً 0.33 ملین یعنی لگ بھگ 3 لاکھ 30 ہزار افراد ایچ آئی وی کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ ایک بڑی تعداد اب بھی سرکاری نظام میں رجسٹرڈ نہیں۔ یہی خلا اس مسئلے کو زیادہ سنگین بناتا ہے، کیونکہ جو لوگ تشخیص سے باہر رہ جاتے ہیں وہ علاج سے بھی محروم رہتے ہیں اور وائرس خاموشی سے آگے پھیل سکتا ہے۔
تشویش کی ایک بڑی وجہ حالیہ برسوں میں سامنے آنے والے وہ واقعات بھی ہیں جن میں غیر محفوظ طبی طریقوں پر سوال اٹھے۔ چند روز پہلے سامنے آنے والی رپورٹنگ میں بتایا گیا کہ پنجاب کے تونسہ میں نومبر 2024 سے اکتوبر 2025 کے درمیان کم از کم 331 بچے ایچ آئی وی سے متاثر پائے گئے، اور تحقیقات میں سرنجوں کے دوبارہ استعمال جیسے سنگین شواہد زیرِ بحث آئے۔ اس نوعیت کے واقعات یہ بتاتے ہیں کہ مسئلہ صرف انفرادی رویّوں یا مخصوص گروہوں تک محدود نہیں رہا، بلکہ صحت کے نظام کی کمزوریاں بھی اس میں کردار ادا کر سکتی ہیں۔
حکومتی سطح پر یہ مؤقف سامنے آیا ہے کہ علاج کی سہولت موجود ہے۔ نیشنل ایڈز کنٹرول پروگرام کے مطابق ملک بھر میں 98 اے آر ٹی مراکز کام کر رہے ہیں جہاں مریضوں کو علاج فراہم کیا جا رہا ہے۔ مگر اصل چیلنج صرف علاج مہیا کرنا نہیں بلکہ بروقت تشخیص، محفوظ طبی طریقۂ کار، اور وائرس کے پھیلاؤ کی روک تھام ہے۔ جب رجسٹرڈ اور اندازاً متاثرہ آبادی کے درمیان اتنا بڑا فرق ہو، تو اس کا مطلب یہی ہے کہ نظام ابھی بھی کئی لوگوں تک پہنچنے میں ناکام ہے۔
