پاکستان میں HIV کے کیسز بڑھ رہے ہیں، اور یہ بات پارلیمنٹ، طبی ماہرین اور عالمی اداروں کی حالیہ رپورٹس سے بھی تقویت پاتی ہے۔ قومی اسمبلی کو حال ہی میں بتایا گیا کہ پاکستان میں سرکاری طور پر 84,421 افراد HIV/AIDS کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں، جبکہ سب سے زیادہ کیسز پنجاب اور سندھ میں رپورٹ ہوئے ہیں۔ دوسری جانب عالمی ادارے اس سے کہیں زیادہ بڑی تصویر پیش کر رہے ہیں۔ WHO اور UNAIDS کے مطابق پاکستان میں اندازاً 3 لاکھ 50 ہزار افراد HIV سے متاثر ہیں اور ان میں سے 80 فیصد کو اپنی بیماری کا علم ہی نہیں۔ ان اداروں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان اب WHO کے مشرقی بحیرہ روم خطے میں HIV کی تیزی سے بڑھتی ہوئی وباؤں میں شامل ہو چکا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ برسوں میں اضافہ بہت نمایاں رہا ہے۔ WHO اور UNAIDS نے بتایا کہ پاکستان میں 15 سال میں نئے HIV انفیکشنز میں 200 فیصد اضافہ ہوا، یعنی 2010 میں 16 ہزار سے بڑھ کر 2024 میں 48 ہزار تک پہنچ گئے۔ اداروں کے مطابق اب یہ وائرس صرف مخصوص خطرے والے گروپس تک محدود نہیں رہا بلکہ بچوں، شریکِ حیات اور عام آبادی تک بھی پھیل رہا ہے، جس کی بڑی وجوہات غیر محفوظ خون، سرنجوں کا دوبارہ استعمال، انفیکشن کنٹرول کی کمزوریاں، سماجی بدنامی، اور ٹیسٹنگ و علاج تک محدود رسائی ہیں۔ ملکی طبی تنظیموں نے بھی اس پر شدید تشویش ظاہر کی ہے۔ جنوری 2026 میں پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے سندھ میں بچوں میں HIV کے بڑھتے کیسز کو “ہائی لیول الرٹ” قرار دیا اور کہا کہ صوبے میں HIV مثبت بچوں کی تعداد 3,995 تک پہنچ چکی ہے، جبکہ صرف 2025 میں کراچی میں 100 سے زائد نئے کیسز سامنے آئے۔ تنظیم نے اس اضافے کی وجوہات میں غیر قانونی کلینکس، غیر محفوظ طبی طریقے اور انفیکشن کنٹرول کی ناکامی کو شامل کیا۔ مجموعی طور پر یہ تمام شواہد ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان میں HIV واقعی بڑھتا ہوا مسئلہ بن چکا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر فوری طور پر ٹیسٹنگ، بروقت علاج، آگاہی، اور غیر محفوظ طبی طریقوں کے خلاف سخت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے۔
