کوئٹہ — صوبہ بلوچستان میں منگل کے روز پیش آنے والے تشدد کے دو الگ الگ واقعات میں ایک کمسن بچی سمیت نو افراد لقمہ اجل بن گئے۔ ان واقعات نے ایک بار پھر صوبے کی نازک سکیورٹی صورتحال پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
پہلا واقعہ ضلع پنجگور میں پیش آیا، جہاں مسلح افراد نے ایک گاڑی کو گھات لگا کر نشانہ بنایا۔ مقامی پولیس کے مطابق، گاڑی پر خودکار ہتھیاروں سے شدید فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں آٹھ قبائلی موقع پر ہی دم توڑ گئے۔ حملہ آور کارروائی کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے، جبکہ علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
اس واقعے کے چند گھنٹے بعد ضلع مستونگ میں فائرنگ کا ایک اور واقعہ پیش آیا۔ ایک ٹارگٹڈ حملے کے دوران گولیوں کی زد میں آ کر ایک کمسن بچی جاں بحق ہو گئی۔ ہسپتال ذرائع نے تصدیق کی کہ بچی کو شدید زخمی حالت میں لایا گیا تھا لیکن وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسی۔
پنجگور میں مارے جانے والے افراد کی شناخت کا عمل جاری ہے۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق، یہ ہلاکتیں دیرینہ قبائلی دشمنی کا شاخسانہ معلوم ہوتی ہیں۔ علاقے میں زمین اور پانی کے حقوق پر تنازعات اکثر خونی شکل اختیار کر لیتے ہیں، جہاں روایتی جرگہ نظام بھی مفاہمت کروانے میں ناکام نظر آتا ہے۔
سکیورٹی فورسز نے دونوں علاقوں کو گھیرے میں لے لیا ہے۔ تاحال پنجگور حملے کی ذمہ داری کسی گروپ نے قبول نہیں کی ہے، جبکہ مستونگ میں ہونے والی فائرنگ کا محرک بھی تاحال معمہ بنا ہوا ہے۔
یہ ہلاکتیں ایسے وقت میں ہوئی ہیں جب صوبائی حکومت پہلے ہی جرائم اور شورش پر قابو پانے کے لیے شدید دباؤ کا شکار ہے۔ صوبائی انتظامیہ کی جانب سے دور دراز اضلاع میں پولیس کی نفری بڑھانے کے دعوے کیے جاتے رہے ہیں، لیکن ایک مربوط سکیورٹی حکمت عملی کے فقدان کے باعث عام شہری مسلسل غیر محفوظ ہیں۔
متاثرہ خاندانوں کے لیے حکومتی وعدے بے معنی دکھائی دیتے ہیں۔ پولیس مشتبہ افراد کی تلاش میں چھاپے مار رہی ہے، مگر تشدد کا یہ نہ ختم ہونے والا سلسلہ اس بات کی گواہی دے رہا ہے کہ بلوچستان میں امن کا قیام اب بھی ایک دور کی کوڑی معلوم ہوتا ہے۔
