پاکستان کے قومی کمیشن برائے انسانی حقوق نے اقوام متحدہ کی کمیٹی برائے انسدادِ تشدد کو جمع کرائی گئی اپنی متبادل رپورٹ میں کہا ہے کہ اگرچہ ملک میں 2022 کا انسدادِ تشدد قانون نافذ ہو چکا ہے، لیکن قانونی ڈھانچے، شکایات کے طریقۂ کار، آزادانہ تحقیقات اور حراستی مراکز میں عملدرآمد کے حوالے سے اب بھی سنگین خلا موجود ہیں۔
اس معاملے کی بنیاد ٹارچر اینڈ کسٹوڈیل ڈیتھ (پریوینشن اینڈ پنشمنٹ) ایکٹ 2022 ہے، جسے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جاتا ہے۔ یہ قانون 3 نومبر 2022 سے نافذ العمل ہے اور پورے پاکستان پر لاگو ہوتا ہے۔ قانون میں حراست کی تعریف کو وسیع رکھا گیا ہے، جس میں گرفتاری، تلاشی، ضبطی اور مختلف مقامات پر آزادی سے محرومی کی صورتیں شامل ہیں۔
تاہم قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کا مؤقف ہے کہ صرف قانون بن جانا کافی نہیں۔ رپورٹ کے مطابق قانون میں نفسیاتی اذیت کو مزید واضح انداز میں شامل کرنے، سزاؤں کو زیادہ مؤثر بنانے، اور ظالمانہ، غیر انسانی یا توہین آمیز سلوک کے لیے صریح فوجداری سزائیں مقرر کرنے کی ضرورت ہے۔ کمیشن نے یہ بھی کہا کہ تشدد کے متعدد مقدمات اب بھی عمومی فوجداری دفعات کے تحت نمٹائے جا رہے ہیں، حالانکہ 2022 کے قانون کے تحت ایک مخصوص نظام موجود ہے۔
رپورٹ میں سب سے اہم اعتراض تحقیقات کے نظام پر اٹھایا گیا ہے۔ قانون کے تحت وفاقی تحقیقاتی ادارہ تشدد کے الزامات کی تحقیقات کرتا ہے اور قومی کمیشن اس کی نگرانی کرتا ہے۔ لیکن کمیشن کے مطابق موجودہ قواعد میں ایسی ابہام موجود ہے جو تحقیقاتی عمل کی آزادی اور غیر جانب داری کو متاثر کر سکتا ہے، خاص طور پر اس لیے کہ بعض معاملات میں قانون نافذ کرنے والے اداروں ہی کے اہلکار الزامات کی زد میں ہوتے ہیں۔
کمیٹی کے ماہرین نے بھی پاکستان کے جائزہ اجلاس کے دوران اسی نوعیت کے خدشات ظاہر کیے۔ ان کے مطابق ملک میں پولیس کے ہاتھوں تشدد کے مسلسل الزامات سامنے آتے رہے ہیں، جن میں ڈنڈوں سے مارپیٹ، جنسی تشدد، نیند سے محرومی اور ذہنی اذیت جیسے الزامات شامل ہیں۔ اس کے جواب میں پاکستانی حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ حکومت تشدد کے بارے میں زیرو ٹالرنس پالیسی رکھتی ہے اور ملوث اہلکاروں کے خلاف محکمانہ اور قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔
قومی کمیشن کی رپورٹ صرف قانون تک محدود نہیں رہتی بلکہ جیلوں اور تھانوں کی زمینی صورتِ حال بھی بیان کرتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق حفاظتی اقدامات پر عملدرآمد غیر یکساں ہے، زخمیوں کے طبی شواہد اکثر مکمل طور پر درج نہیں کیے جاتے، اور نفسیاتی معائنہ شاذونادر ہی ہوتا ہے۔ یہی وہ کمزوری ہے جو تشدد کے مقدمات کو ابتدائی مرحلے میں ہی کمزور کر دیتی ہے۔
رپورٹ میں پرانے اور نئے دونوں طرح کے کیسز کا حوالہ دیا گیا ہے۔ کمیشن کے مطابق اس کی ایک سابقہ انکوائری میں فیصل آباد پولیس کے ہاتھوں 1,424 مصدقہ تشدد کے واقعات کا جائزہ لیا گیا تھا، مگر ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف بہت کم یا کوئی مؤثر کارروائی نہیں ہوئی۔ اسی طرح ڈاکٹر شاہ نواز کمبھار کے 2024 کے حراستی قتل کے معاملے میں کمیشن نے بتایا کہ متعدد پولیس اہلکاروں اور ایک شہری کے خلاف مختلف دفعات کے تحت مقدمات درج کیے گئے، جن میں 2022 کا قانون بھی شامل تھا۔
رپورٹ میں جیلوں کے حالات پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ قومی کمیشن کے مطابق جیل معائنے، شکایات اور تحقیقات کے دوران مارپیٹ، تنہائی میں قید، بھتہ خوری، ناکافی طبی سہولیات اور شکایت درج کرانے کے کمزور نظام کی بار بار نشاندہی ہوئی۔ اڈیالہ جیل سے متعلق ایک انکوائری میں 35 میں سے 26 قیدیوں نے تشدد یا ناروا سلوک کی شکایت کی۔ یہ صورتِ حال اس بحث کو مزید سنجیدہ بنا دیتی ہے کہ مسئلہ محض انفرادی نہیں بلکہ ساختی بھی ہو سکتا ہے۔
پاکستانی حکومت نے کہا ہے کہ وہ اصلاحات کے ایک مرحلہ وار عمل سے گزر رہی ہے، اہلکاروں کی تربیت بین الاقوامی اصولوں کے مطابق کی جا رہی ہے اور بعض اہلکاروں کے خلاف محکمانہ کارروائی بھی ہو چکی ہے۔ اب توجہ اس بات پر ہے کہ آیا یہ اقدامات حقیقی پیش رفت ثابت ہوتے ہیں یا پھر حراست، تفتیش اور جیل کے ماحول میں بنیادی خامیاں بدستور برقرار رہتی ہیں۔
