MediaHydeMediaHyde
  • صفحہ اول
  • سیاست
  • تعلیم
  • انٹرٹینمنٹ
  • کھیل
  • بلاگ
  • کاروبار اور تجارت
  • دیگر
    • مذہبی
    • میٹروپولیٹن
    • موسمیات و ماحولیات
Font ResizerAa
MediaHydeMediaHyde
Font ResizerAa
  • صفحہ اول
  • سیاست
  • تعلیم
  • انٹرٹینمنٹ
  • کھیل
  • بلاگ
  • کاروبار اور تجارت
  • دیگر
    • مذہبی
    • میٹروپولیٹن
    • موسمیات و ماحولیات
Follow US
© 2026 Media Hyde Network. All Rights Reserved
عدالت اور جرائم

پاکستان میں قانونی تحفظات کی کمزوری اور حراستی تشدد کے الزامات پر نئی تشویش

Last updated: اپریل 24, 2026 11:23 شام
Hifza Ahmed
Share
پاکستان میں قانونی تحفظات کی کمزوری اور حراستی تشدد کے الزامات پر نئی تشویش
SHARE

پاکستان کے قومی کمیشن برائے انسانی حقوق نے اقوام متحدہ کی کمیٹی برائے انسدادِ تشدد کو جمع کرائی گئی اپنی متبادل رپورٹ میں کہا ہے کہ اگرچہ ملک میں 2022 کا انسدادِ تشدد قانون نافذ ہو چکا ہے، لیکن قانونی ڈھانچے، شکایات کے طریقۂ کار، آزادانہ تحقیقات اور حراستی مراکز میں عملدرآمد کے حوالے سے اب بھی سنگین خلا موجود ہیں۔

اس معاملے کی بنیاد ٹارچر اینڈ کسٹوڈیل ڈیتھ (پریوینشن اینڈ پنشمنٹ) ایکٹ 2022 ہے، جسے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جاتا ہے۔ یہ قانون 3 نومبر 2022 سے نافذ العمل ہے اور پورے پاکستان پر لاگو ہوتا ہے۔ قانون میں حراست کی تعریف کو وسیع رکھا گیا ہے، جس میں گرفتاری، تلاشی، ضبطی اور مختلف مقامات پر آزادی سے محرومی کی صورتیں شامل ہیں۔

تاہم قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کا مؤقف ہے کہ صرف قانون بن جانا کافی نہیں۔ رپورٹ کے مطابق قانون میں نفسیاتی اذیت کو مزید واضح انداز میں شامل کرنے، سزاؤں کو زیادہ مؤثر بنانے، اور ظالمانہ، غیر انسانی یا توہین آمیز سلوک کے لیے صریح فوجداری سزائیں مقرر کرنے کی ضرورت ہے۔ کمیشن نے یہ بھی کہا کہ تشدد کے متعدد مقدمات اب بھی عمومی فوجداری دفعات کے تحت نمٹائے جا رہے ہیں، حالانکہ 2022 کے قانون کے تحت ایک مخصوص نظام موجود ہے۔

رپورٹ میں سب سے اہم اعتراض تحقیقات کے نظام پر اٹھایا گیا ہے۔ قانون کے تحت وفاقی تحقیقاتی ادارہ تشدد کے الزامات کی تحقیقات کرتا ہے اور قومی کمیشن اس کی نگرانی کرتا ہے۔ لیکن کمیشن کے مطابق موجودہ قواعد میں ایسی ابہام موجود ہے جو تحقیقاتی عمل کی آزادی اور غیر جانب داری کو متاثر کر سکتا ہے، خاص طور پر اس لیے کہ بعض معاملات میں قانون نافذ کرنے والے اداروں ہی کے اہلکار الزامات کی زد میں ہوتے ہیں۔

کمیٹی کے ماہرین نے بھی پاکستان کے جائزہ اجلاس کے دوران اسی نوعیت کے خدشات ظاہر کیے۔ ان کے مطابق ملک میں پولیس کے ہاتھوں تشدد کے مسلسل الزامات سامنے آتے رہے ہیں، جن میں ڈنڈوں سے مارپیٹ، جنسی تشدد، نیند سے محرومی اور ذہنی اذیت جیسے الزامات شامل ہیں۔ اس کے جواب میں پاکستانی حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ حکومت تشدد کے بارے میں زیرو ٹالرنس پالیسی رکھتی ہے اور ملوث اہلکاروں کے خلاف محکمانہ اور قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔

قومی کمیشن کی رپورٹ صرف قانون تک محدود نہیں رہتی بلکہ جیلوں اور تھانوں کی زمینی صورتِ حال بھی بیان کرتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق حفاظتی اقدامات پر عملدرآمد غیر یکساں ہے، زخمیوں کے طبی شواہد اکثر مکمل طور پر درج نہیں کیے جاتے، اور نفسیاتی معائنہ شاذونادر ہی ہوتا ہے۔ یہی وہ کمزوری ہے جو تشدد کے مقدمات کو ابتدائی مرحلے میں ہی کمزور کر دیتی ہے۔

رپورٹ میں پرانے اور نئے دونوں طرح کے کیسز کا حوالہ دیا گیا ہے۔ کمیشن کے مطابق اس کی ایک سابقہ انکوائری میں فیصل آباد پولیس کے ہاتھوں 1,424 مصدقہ تشدد کے واقعات کا جائزہ لیا گیا تھا، مگر ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف بہت کم یا کوئی مؤثر کارروائی نہیں ہوئی۔ اسی طرح ڈاکٹر شاہ نواز کمبھار کے 2024 کے حراستی قتل کے معاملے میں کمیشن نے بتایا کہ متعدد پولیس اہلکاروں اور ایک شہری کے خلاف مختلف دفعات کے تحت مقدمات درج کیے گئے، جن میں 2022 کا قانون بھی شامل تھا۔

رپورٹ میں جیلوں کے حالات پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ قومی کمیشن کے مطابق جیل معائنے، شکایات اور تحقیقات کے دوران مارپیٹ، تنہائی میں قید، بھتہ خوری، ناکافی طبی سہولیات اور شکایت درج کرانے کے کمزور نظام کی بار بار نشاندہی ہوئی۔ اڈیالہ جیل سے متعلق ایک انکوائری میں 35 میں سے 26 قیدیوں نے تشدد یا ناروا سلوک کی شکایت کی۔ یہ صورتِ حال اس بحث کو مزید سنجیدہ بنا دیتی ہے کہ مسئلہ محض انفرادی نہیں بلکہ ساختی بھی ہو سکتا ہے۔

پاکستانی حکومت نے کہا ہے کہ وہ اصلاحات کے ایک مرحلہ وار عمل سے گزر رہی ہے، اہلکاروں کی تربیت بین الاقوامی اصولوں کے مطابق کی جا رہی ہے اور بعض اہلکاروں کے خلاف محکمانہ کارروائی بھی ہو چکی ہے۔ اب توجہ اس بات پر ہے کہ آیا یہ اقدامات حقیقی پیش رفت ثابت ہوتے ہیں یا پھر حراست، تفتیش اور جیل کے ماحول میں بنیادی خامیاں بدستور برقرار رہتی ہیں۔

Share This Article
Facebook Whatsapp Whatsapp Email Copy Link Print
Previous Article ٹنول ریلوے کراسنگ کو آبنائے ہرمز سے تشبیہ دینے پر شہری گرفتار
Next Article خانیوال میں ڈکیتی کے دوران خاتون اور 13 سالہ بیٹا قتل
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اشتہار

FacebookLike
XFollow
InstagramFollow
YoutubeSubscribe
WhatsAppFollow
ThreadsFollow
ایس ایف جے کا کراچی حملے میں بھارتی خفیہ ایجنسیوں کے ملوث ہونے کا دعویٰ، رینجرز کو خراجِ تحسین
ایس ایف جے کا کراچی حملے میں بھارتی خفیہ ایجنسیوں کے ملوث ہونے کا دعویٰ، رینجرز کو خراجِ تحسین
تازہ ترین سیاست
جون 29, 2026
کورنگی کراسنگ: تیزاب گردی کا واقعہ، نوجوان خاتون جھلس کر زخمی
کورنگی کراسنگ: تیزاب گردی کا واقعہ، نوجوان خاتون جھلس کر زخمی
تازہ ترین عدالت اور جرائم
جون 29, 2026
جولائی کے پہلے ہفتے سے ملک بھر میں مون سون بارشوں کا آغاز، اربن فلڈنگ کا خدشہ
جولائی کے پہلے ہفتے سے ملک بھر میں مون سون بارشوں کا آغاز، اربن فلڈنگ کا خدشہ
تازہ ترین موسمیات و ماحولیات
جون 29, 2026
گوگل نے اپنے ڈیجیٹل والیٹ میں پارسل ٹریکنگ کا نیا خودکار فیچر متعارف کرا دیا
گوگل نے اپنے ڈیجیٹل والیٹ میں پارسل ٹریکنگ کا نیا خودکار فیچر متعارف کرا دیا
کاروبار اور تجارت
جون 29, 2026
اوپن مارکیٹ میں پاکستانی روپے کے مقابلے ایرانی ریال کی قیمت میں کمی؛ سٹہ بازی اور خریداروں کی دلچسپی برقرار
اوپن مارکیٹ میں پاکستانی روپے کے مقابلے ایرانی ریال کی قیمت میں کمی؛ سٹہ بازی اور خریداروں کی دلچسپی برقرار
کاروبار اور تجارت
جون 29, 2026
کراچی میں ڈکیتی کے دوران قتل، زخمی بہو پانچ گھنٹے مدد کی منتظر رہی
کراچی میں ڈکیتی کے دوران قتل، زخمی بہو پانچ گھنٹے مدد کی منتظر رہی
تازہ ترین عدالت اور جرائم
جون 29, 2026

You Might Also Like

عدالت اور جرائم

چوہنگ پولیس نے 20 لاکھ روپے برآمد کرکے ملزمان گرفتار کرلیے

By Jaweria Ahmed
عدالت اور جرائم

راولپنڈی: اکیڈمی پرنسپل طالبہ سے زیادتی اور اسقاط حمل کے الزام میں گرفتار

By Jaweria Ahmed
عدالت اور جرائم

راولپنڈی: نوبیاہتا خاتون قتل، شوہر زخمی، پراسرار فائرنگ کا واقعہ

By Jaweria Ahmed
عدالت اور جرائم

بنوں ٹاؤن شپ میں فائرنگ، تین افراد جاں بحق، ایک زخمی

By Jaweria Ahmed
MediaHyde
Facebook Twitter Youtube Rss Medium

About US

Your instant connection to breaking stories and live updates. Stay informed with our real-time coverage across politics, tech, entertainment, and more. Your reliable source for 24/7 news.

Top Categories
  • تازہ ترین
  • سیاست
  • انٹرٹینمنٹ
  • تعلیم
  • کھیل
  • مذہبی
  • میٹروپولیٹن
  • موسمیات و ماحولیات
Usefull Links
  • Contact Us
  • Disclaimer
  • Privacy Policy
  • Cookies Policy
  • Advertising Policy
  • Terms & Conditions

© 2025 Media Hyde Network. All Rights Reserved.

Welcome Back!

Sign in to your account

Username or Email Address
Password

Lost your password?