خانیوال کے علاقے کوٹ مدینہ میں ایک گھر میں مبینہ ڈکیتی کے دوران ایک خاتون اور اس کا 13 سالہ بیٹا قتل کر دیے گئے۔ پولیس کے مطابق نامعلوم ملزمان رات کے وقت گھر میں داخل ہوئے، جبکہ اہلِ خانہ سو رہے تھے، اور مزاحمت پر ماں اور بیٹے کو ہلاک کر دیا۔ جاں بحق ہونے والوں کی شناخت فرحانہ اور اس کے بیٹے زیشان کے نام سے ہوئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ملزمان گھر سے موبائل فونز اور دیگر قیمتی سامان لے کر فرار ہو گئے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق ماں اور بیٹے کو مبینہ طور پر گلا دبا کر قتل کیا گیا۔ گھر میں موجود دو کم عمر بچے، تین سالہ ہانیہ اور چار سالہ شابان، محفوظ رہے۔ پولیس نے یہ بھی بتایا کہ فرحانہ کا شوہر کئی برس سے سعودی عرب میں مقیم ہے۔
اس واقعے کا ایک انتہائی افسوسناک پہلو یہ بھی سامنے آیا کہ اہلِ خانہ کے مطابق زیشان نے اسی روز قرآنِ پاک کے 29 پارے حفظ کیے تھے اور اس خوشی میں اپنے ساتھی طلبہ میں مٹھائی بھی تقسیم کی تھی۔ چند گھنٹوں بعد وہ اپنی والدہ کے ساتھ مردہ پایا گیا۔
واقعے کے بعد آر پی او ملتان اور ڈی پی او خانیوال محمد عابد سمیت سینئر پولیس افسران موقع پر پہنچے۔ پولیس کے مطابق شواہد اکٹھے کیے گئے، اہلِ خانہ اور مقامی افراد کے بیانات قلم بند کیے گئے اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے متعدد ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ لاشوں کو ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال منتقل کر کے پوسٹ مارٹم کرایا گیا۔
پوسٹ مارٹم کے بعد لاشوں کی حوالگی پر کچھ دیر کشیدگی بھی رہی۔ بعد میں فرحانہ کی لاش اس کے بھائی کے حوالے کر دی گئی، جبکہ زیشان کی میت اس کے بزرگ رشتہ دار کے سپرد کی گئی تاکہ تدفین کی جا سکے۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب خانیوال میں ڈکیتی اور اس سے جڑے جرائم پر پہلے ہی تشویش پائی جاتی رہی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی تفتیش جاری ہے اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔
خانیوال میں ڈکیتی کے دوران خاتون اور 13 سالہ بیٹا قتل
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔
