لاہور کے علاقے اچھرہ میں جمعرات، 23 اپریل 2026 کو ایک نہایت افسوسناک واقعہ سامنے آیا، جہاں ایک گھر سے تین کمسن بہن بھائیوں کی لاشیں برآمد ہوئیں۔ ابتدائی پولیس تفتیش کے مطابق بچوں کے گلے کسی تیز دھار آلے سے کاٹے گئے تھے۔ مقامی رپورٹس میں بچوں کی شناخت پانچ سالہ مومنہ بتول، چار سالہ مومن رضا اور ڈیڑھ سالہ امّ حبیبہ کے نام سے کی گئی ہے۔ واقعہ شاہ جمال کے قریب مشعلہ پلازہ کے ایک فلیٹ میں پیش آیا۔
اس واقعے نے شروع ہی سے کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ پولیس کو دی گئی ابتدائی معلومات کے مطابق بچوں کا والد کچھ دیر کے لیے دوا لینے باہر گیا تھا اور واپسی پر بچوں کو مردہ پایا۔ تاہم بعض مقامی رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا کہ والدین دونوں تھوڑی دیر کے لیے گھر سے باہر گئے تھے۔ یہی تضاد اب تفتیش کا ایک اہم نکتہ بن چکا ہے، کیونکہ حکام یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ واقعے کے وقت گھر میں آخر ہوا کیا تھا۔
اطلاع ملتے ہی پولیس اور ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں، شواہد اکٹھے کیے گئے اور لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے منتقل کر دیا گیا۔ ابتدائی طور پر پولیس نے کسی حتمی محرک یا ملزم کے بارے میں واضح مؤقف نہیں دیا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ معاملہ ابھی محض ایک اندوہناک سانحہ نہیں بلکہ ایک پیچیدہ تفتیشی کیس بھی بن چکا ہے۔
پولیس نے والدین اور ایک چچا کو حراست میں لے کر پوچھ گچھ شروع کر دی ہے۔ حکام کے مطابق ان کے بیانات میں تضاد پایا گیا، جس کی بنیاد پر مزید تفتیش کی جا رہی ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق ابھی تک کسی پر باقاعدہ فردِ جرم عائد نہیں کی گئی، اور نہ ہی پولیس نے عوامی طور پر یہ واضح کیا ہے کہ حملہ آور گھر میں کیسے داخل ہوا، خاص طور پر جب بعض رپورٹس میں فلیٹ بند ہونے کا ذکر بھی سامنے آیا ہے۔
اس واقعے نے شہر بھر میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے، خاص طور پر اس لیے کہ مقتولین کم عمر بچے تھے اور قتل کا طریقہ انتہائی سفاکانہ بتایا جا رہا ہے۔ اب نگاہیں پوسٹ مارٹم رپورٹ، فرانزک معائنے اور پولیس کی آئندہ پیش رفت پر ہیں۔ جب تک یہ رپورٹس سامنے نہیں آتیں، اس سانحے کے سب سے اہم سوالات بدستور جواب طلب رہیں گے۔
