کھٹمنڈو — نیپال میں تباہ کن سیلاب اور تودے گرنے کے واقعات کے بعد اب تلاش کا عمل زندگی سے موت کے خاموش کنارے پر آ گیا ہے۔ سیلاب میں بہہ جانے والے سینکڑوں افراد کی لاشیں نہ ملنے پر متاثرہ خاندان اب روایتی ہندو رسومات کے تحت ’کُش پُتل‘ کا سہارا لے رہے ہیں، جس میں گھاس کے پتلے کو انسان کا نعم البدل سمجھ کر جلایا جاتا ہے۔
گزشتہ ہفتے آنے والے سیلاب میں ہلاکتوں کی تعداد 240 سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ درجنوں افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ دریاؤں کے تیز بہاؤ اور مٹی کے تودوں نے لاشوں کو ڈھونڈنے کے عمل کو ناممکن بنا دیا ہے۔ ایسے میں لواحقین کے پاس اپنے پیاروں کی آخری رسومات کے لیے انتظار کے سوا کوئی چارہ نہیں بچا۔
پشوپتی ناتھ مندر کے گھاٹ پر موجود ایک سوگوار نے سفید کپڑے میں لپٹی گھاس کی چھوٹی سی گٹھڑی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا، "دریا اب انہیں واپس نہیں کرے گا۔ ہم مزید انتظار کر کے ان کی روح کو بھٹکتا نہیں چھوڑ سکتے۔”
ہندو عقائد کے مطابق، مرنے والے کی آخری رسومات کی ادائیگی روح کی تسکین کے لیے لازمی ہے۔ جب لاش نہ ملے تو خاندان تین سے بارہ دن تک انتظار کرتے ہیں، جس کے بعد ’کُش‘ نامی مقدس گھاس سے انسانی شکل بنا کر اسے جلایا جاتا ہے تاکہ مذہبی تقاضے پورے کیے جا سکیں۔
یہ محض ایک رسم نہیں، بلکہ اس تباہی کی ہولناکی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ وادی کھٹمنڈو میں پانی کی سطح اتنی تیزی سے بلند ہوئی کہ لوگ گھروں کی چھتوں اور مسافر بسوں میں ہی پھنس کر رہ گئے۔ امدادی ٹیمیں اب بھی ملبے سے صرف جوتے، اسکول کے بستے یا موٹر سائیکلوں کے ڈھانچے برآمد کر رہی ہیں، لیکن زندہ بچ جانے والوں کی امیدیں دم توڑ چکی ہیں۔
حکومت کی جانب سے ریسکیو آپریشن میں تاخیر پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ خراب موسم کے باعث ہیلی کاپٹرز وقت پر نہ پہنچ سکے اور بہت سے لوگ درختوں اور کھمبوں سے چمٹ کر مدد کا انتظار کرتے رہے۔ وزیر اعظم کے پی شرما اولی نے نقصانات کے پیمانے کو دیکھتے ہوئے حکومتی کوتاہیوں کا اعتراف تو کیا ہے، لیکن متاثرین کے لیے یہ بیانات ان کے غم کا مداوا کرنے سے قاصر ہیں۔
اس سانحے کا سب سے تکلیف دہ پہلو وہ نفسیاتی خلا ہے جو لاش نہ ملنے سے پیدا ہوتا ہے۔ مقامی پجاریوں کا کہنا ہے کہ "رسم تو مذہبی تقاضا پورا کر دیتی ہے، لیکن ماں یا بیوی کے دل میں یہ سوال ہمیشہ زندہ رہتا ہے کہ کیا ان کا پیارا واقعی مٹی کے نیچے کہیں دب تو نہیں گیا؟”
جیسے جیسے بارشیں تھم رہی ہیں، حکومت کی توجہ اب بحالی کے کاموں پر مرکوز ہے۔ تاہم، لاپتہ افراد کے اہل خانہ کے لیے نیپال کا منظر نامہ ہمیشہ کے لیے بدل چکا ہے۔ وہ صرف اپنے گھروں کی تعمیرِ نو نہیں کر رہے، بلکہ اپنے پیاروں کے ان سائے کو الوداع کہہ رہے ہیں جو کبھی نہیں ملے۔
پشوپتی ناتھ کے گھاٹ پر جلنے والی چتائیں اس ہفتے بھی دہکتی رہیں گی۔ کچھ سے گوشت کے جلنے کی بو آئے گی اور کچھ سے صرف سوکھی گھاس کے دھویں کی، لیکن نیپال کے ان خاندانوں کے لیے دونوں کا مطلب ایک ہی ہے: ایک ایسا آخری الوداع جس میں جسدِ خاکی کا وجود تک شامل نہیں۔
