کراچی کے علاقے اورنگی ٹاؤن میں ایک خاتون کو اس وقت شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا جب مبینہ طور پر اس نے ایک نوزائیدہ بچی کو کوڑے کے ڈھیر میں پھینک دیا۔ مشتعل ہجوم نے قانون ہاتھ میں لیتے ہوئے خاتون پر دھاوا بول دیا، جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
واقعہ مومن آباد کے قریب پیش آیا۔ مقامی لوگوں نے کوڑے کے ڈھیر سے بچی کے رونے کی آواز سنی اور موقع پر موجود خاتون کو دیکھ کر مشتعل ہو گئے۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہاں جمع ہونے والے افراد نے خاتون کو گھیرے میں لے لیا اور لاتوں اور گھونسوں سے تشدد کا نشانہ بنایا۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مشتعل افراد خاتون پر برس رہے ہیں، جبکہ کچھ لوگ اسے روکنے کی بجائے ویڈیو بنانے میں مصروف ہیں۔ پولیس نے بروقت پہنچ کر خاتون کو ہجوم کے چنگل سے چھڑایا اور اپنی تحویل میں لے لیا۔
ریسکیو حکام نے بچی کو فوری طور پر طبی امداد کے لیے قریبی ہسپتال منتقل کیا۔ ہسپتال ذرائع کے مطابق بچی کی حالت اب خطرے سے باہر ہے، تاہم اسے شدید سردی اور زخموں کے باعث طبی نگرانی میں رکھا گیا ہے۔
مومن آباد پولیس کے مطابق، "ہم خاتون سے پوچھ گچھ کر رہے ہیں تاکہ اصل حقائق کا پتہ چل سکے۔ بچی کس کی ہے اور اسے یہاں کیوں پھینکا گیا، یہ تحقیقات کے بعد واضح ہوگا۔”
پولیس نے ہجوم میں شامل افراد کی شناخت کا عمل بھی شروع کر دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی، چاہے جرم کتنا ہی سنگین کیوں نہ ہو۔
یہ واقعہ شہر میں بڑھتے ہوئے عوامی تشدد کے رجحان اور بچوں کے تحفظ کے معاملے پر ایک بار پھر سوالیہ نشان کھڑا کر گیا ہے۔ فی الحال، تفتیشی ٹیمیں خاتون کے بیانات اور عینی شاہدین کی گواہیوں کی روشنی میں مقدمے کے قانونی پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہیں۔
