واٹس ایپ آج کل صرف بات چیت کا ذریعہ نہیں، بلکہ نجی ڈیٹا کا مرکز ہے۔ ہیکرز اکثر جدید سافٹ ویئر کے بجائے انسانی غفلت کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اگر آپ نے واٹس ایپ کے حفاظتی فیچرز فعال نہیں کیے، تو آپ کا اکاؤنٹ کسی بھی وقت خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
ٹو-اسٹیپ ویریفیکیشن کو فعال کریں
یہ آپ کی دفاعی لائن کا پہلا اور اہم ترین حصہ ہے۔ واٹس ایپ کی سیٹنگز میں جائیں، ‘اکاؤنٹ’ پر کلک کریں اور ‘ٹو-اسٹیپ ویریفیکیشن’ کو آن کریں۔ یہاں چھ ہندسوں کا ایک پن کوڈ سیٹ کریں۔ اس کے بعد جب بھی آپ کا نمبر کسی نئے فون پر لاگ ان ہوگا، واٹس ایپ یہ کوڈ مانگے گا۔ ساتھ ہی اپنا ای میل ایڈریس ضرور شامل کریں؛ اگر آپ پن کوڈ بھول گئے تو یہی ای میل آپ کا اکاؤنٹ بحال کروانے کا واحد راستہ ہے۔
ایس ایم ایس کوڈ کبھی کسی کو نہ دیں
ہیکرز اکثر دوست یا رشتہ دار بن کر میسج کرتے ہیں کہ "غلطی سے میرے کوڈ آپ کے نمبر پر آ گیا ہے، براہ کرم وہ بھیج دیں۔” یہ ایک چال ہے۔ جیسے ہی آپ وہ کوڈ انہیں بھیجیں گے، آپ کا اکاؤنٹ ان کے قبضے میں چلا جائے گا۔ یاد رکھیں، واٹس ایپ کبھی بھی آپ سے خود رابطہ کرکے ویریفیکیشن کوڈ نہیں مانگتا۔ کسی بھی انجان شخص کو ایسا کوئی کوڈ ہرگز نہ بھیجیں۔
لنکڈ ڈیوائسز کی نگرانی کریں
اکثر لوگ اپنے واٹس ایپ کو کمپیوٹر یا کسی دوسرے براؤزر میں لاگ ان کر کے بھول جاتے ہیں۔ واٹس ایپ کی سیٹنگز میں جا کر کو چیک کریں۔ اگر آپ کو وہاں کوئی ایسی ڈیوائس نظر آئے جسے آپ نہیں پہچانتے، تو فوراً کا بٹن دبائیں۔ یہ عمل باقاعدگی سے دہرائیں تاکہ کوئی دوسرا آپ کی چیٹس تک رسائی برقرار نہ رکھ سکے۔
نوٹیفکیشنز کو محفوظ بنائیں
آپ کا فون لاک ہونے کے باوجود نوٹیفکیشنز میں میسج کا کچھ حصہ دکھائی دیتا ہے، جسے کوئی بھی پڑھ سکتا ہے۔ فون کی مین سیٹنگز میں جا کر واٹس ایپ کے ‘میسج پریویو’ کو بند کر دیں۔ اس سے آپ کے پیغامات تب تک نظر نہیں آئیں گے جب تک آپ خود ایپ نہیں کھولیں گے۔
اگر اکاؤنٹ ہیک ہو جائے تو کیا کریں؟
اگر آپ کو شک ہو کہ اکاؤنٹ ہیک ہو گیا ہے، تو گھبرائیں نہیں۔ واٹس ایپ کو ڈیلیٹ کر کے دوبارہ انسٹال کریں اور اپنے فون نمبر سے دوبارہ لاگ ان کریں۔ جیسے ہی آپ اپنے نمبر کی تصدیق کریں گے، ہیکر کے فون سے آپ کا اکاؤنٹ خود بخود لاگ آؤٹ ہو جائے گا۔ اگر ہیکر نے ٹو-اسٹیپ ویریفیکیشن لگا رکھی ہے، تو آپ کو اکاؤنٹ تک دوبارہ رسائی کے لیے سات دن کا انتظار کرنا پڑ سکتا ہے۔
سیکیورٹی کوئی ایک بار کا کام نہیں، یہ ایک مستقل عادت ہے۔ اپنا پن کوڈ کسی سے شیئر نہ کریں اور ڈیوائسز پر نظر رکھیں۔ آپ کی ڈیجیٹل زندگی کی حفاظت کا دارومدار انہی چند احتیاطی تدابیر پر ہے۔
