یورپ اس وقت موسموں کی شدت کی زد میں ہے۔ بحیرہ روم کے جھلساتے ہوئے پہاڑی علاقوں سے لے کر وسطی یورپ کی سیلاب زدہ سڑکوں تک، براعظم ایک ایسے ہولناک موسمیاتی تغیر کا مشاہدہ کر رہا ہے جس نے وہاں کے بنیادی ڈھانچے اور سیاسی عزم کو کڑے امتحان میں ڈال دیا ہے۔
یہ اب محض پیش گوئی نہیں رہی۔ یہ اس براعظم کی حقیقت ہے جو ریکارڈ توڑ ہیٹ ویوز اور ایسی تباہ کن بارشوں کے درمیان پھنس چکا ہے، جن کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔
انسانی نقصانات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ یونان اور اسپین میں فائر فائٹرز ہفتوں سے ان جنگلات کی آگ بجھانے میں مصروف ہیں جو خشک پودوں اور تیز ہواؤں کے باعث بے قابو ہو چکی ہے۔ دوسری جانب، جرمنی اور پولینڈ جیسے ممالک اچانک ہونے والی شدید بارشوں کی زد میں ہیں، جس کے نتیجے میں پرسکون دریا بپھر کر تباہ کن سیلاب بن چکے ہیں اور وہاں کا نکاسی آب کا نظام اس پانی کے دباؤ کو برداشت کرنے سے قاصر ہے۔
اعداد و شمار واضح ہیں۔ یورپی یونین کی موسمیاتی نگرانی کرنے والی ایجنسی ‘کوپرنیکس’ نے تصدیق کی ہے کہ گزشتہ بارہ ماہ مسلسل درجہ حرارت کے ریکارڈ توڑ رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق بحر اوقیانوس کا غیر معمولی گرم پانی ایک بڑے انجن کی طرح کام کر رہا ہے، جو جنوب میں خشک سالی اور شمال میں طوفانی بارشوں کو ہوا دے رہا ہے۔
میلان میں مقیم کلائمیٹ ریسرچر ڈاکٹر ایلینا روسی کہتی ہیں، "ہم اپنی حفاظتی حدود کو ختم ہوتے دیکھ رہے ہیں۔ پچاس سال پہلے جو ڈھانچہ تعمیر کیا گیا تھا، وہ ایک ایسے استحکام پر مبنی تھا جو اب باقی نہیں رہا۔ ہم صرف ایک برے سال سے نہیں نمٹ رہے، بلکہ ایک نئے اور غیر مستحکم دور میں داخل ہو چکے ہیں۔”
سیاسی سطح پر، اس موسم گرما نے توجہ کا مرکز بدل دیا ہے۔ ‘یورپی گرین ڈیل’، جو کبھی طویل مدتی پالیسی کا ایک نقشہ راہ تھی، اب ہنگامی بقا کے تناظر میں دیکھی جا رہی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے جنگلات کا انتظام اور سیلابی دفاع کو بہتر بنانے جیسے اقدامات، موسمیاتی بگاڑ کی رفتار کے مقابلے میں بہت سست رہے ہیں۔
حکومتیں اب ایک مشکل چکر میں پھنس چکی ہیں: انہیں ہنگامی امداد پر اربوں خرچ کرنے پڑ رہے ہیں، جس سے وہ بجٹ متاثر ہو رہا ہے جو دراصل قابلِ تجدید توانائی کی منتقلی کے لیے مختص تھا۔ یہ ایک ایسا سلسلہ ہے جو براعظم کے ماحولیاتی اہداف کو اس وقت پٹری سے اتار سکتا ہے جب ان کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔
معاشی نقصان اب نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ بحیرہ روم کی سیاحت، جو وہاں کی معیشت کا ستون ہے، شدید گرمی کے انتباہات کے باعث مندی کا شکار ہے۔ زراعت بھی اسی بحران سے دوچار ہے؛ اٹلی اور فرانس میں فصلوں کی پیداوار طویل خشک سالی اور اچانک ہونے والی ژالہ باری کے باعث شدید متاثر ہوئی ہے۔
یورپی پالیسی سازوں کے لیے سوال اب یہ نہیں کہ آیا اقدام کیا جائے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ ہنگامی بحرانوں سے نکل کر ایک مضبوط اور مستحکم ڈھانچہ کیسے تشکیل دیا جائے۔ موسم خزاں کی آمد کے ساتھ ہی، اس موسم گرما کی تباہ کاریاں ایک تلخ یاد دہانی ہیں کہ براعظم کا موسمیاتی امتحان آنے والا نہیں، بلکہ شروع ہو چکا ہے۔
