سالم، اوہائیو: امریکی ریاست اوہائیو کے دیہی علاقوں میں ایک خاموش مگر سنگین ماحولیاتی بحران سر اٹھا رہا ہے۔ زمین کی تہوں سے زہریلا پانی ابل کر سطح پر آ رہا ہے، جس نے مقامی رہائشیوں کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ یہ پانی تیل اور گیس کی کھدائی کے عمل سے نکلنے والا کیمیائی فضلہ ہے، جس کا انتظام کرنے میں ریاستی ادارے ناکام دکھائی دیتے ہیں۔
ماہرین اسے "برائن ویپنگ” کا نام دیتے ہیں۔ یہ عمل اس وقت ہوتا ہے جب تیل نکالنے کے لیے استعمال ہونے والے کیمیکلز، بھاری دھاتیں اور تابکار مادے (جیسے ریڈیم) غیر محفوظ طریقے سے تلف کیے جاتے ہیں یا پرانے کنوؤں سے رستا ہوا زمین کی اوپری سطح تک پہنچ جاتے ہیں۔ یہ محض ایک ماحولیاتی مسئلہ نہیں، بلکہ انسانی صحت کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔
متاثرہ علاقوں میں زمین کا رنگ سیاہ پڑ رہا ہے، نباتات سوکھ کر ختم ہو رہی ہیں اور ہوا میں ایک تیز دھاتی بو بسی ہوئی ہے۔ مقامی لوگ اوہائیو ڈیپارٹمنٹ آف نیچرل ریسورسز پر شدید برہم ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ محکمہ یا تو اعداد و شمار چھپا رہا ہے یا پھر توانائی کے شعبے کو تحفظ دینے کے لیے جان بوجھ کر غفلت برت رہا ہے۔
ایک مقامی رہائشی نے، جنہوں نے قانونی پیچیدگیوں کے پیش نظر نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی، بتایا کہ "یہ صرف کیچڑ نہیں ہے۔ یہ ایسا زہر ہے جو جلد کو جلا دیتا ہے اور ہمارے کنوؤں کے پانی کو ناقابلِ استعمال بنا رہا ہے۔ ہم مہینوں سے حکام کو رپورٹ کر رہے ہیں، لیکن ان کا رویہ بے حسی کے سوا کچھ نہیں۔”
اس صورتحال کے مضمرات سنگین ہیں۔ تیل نکالنے کے عمل سے خارج ہونے والے تابکار مادے کینسر کا سبب بن سکتے ہیں۔ جب یہ مادے مٹی یا زیرِ زمین پانی کے ذخائر میں شامل ہو جائیں، تو ان کی صفائی نہ صرف انتہائی مہنگی ہے بلکہ تکنیکی طور پر بھی ایک مشکل چیلنج ہے۔ دیہی کاؤنٹیز کے پاس اس قسم کے خطرناک فضلے سے نمٹنے کے لیے نہ تو آلات ہیں اور نہ ہی تربیت یافتہ عملہ۔
ریاستی ادارے دعویٰ کرتے ہیں کہ فضلہ "محفوظ طریقے سے کنٹرول” کیا گیا ہے، لیکن سالم اور اس کے نواحی علاقوں کی زمینی حقائق اس دعوے کی نفی کرتے ہیں۔ آزادانہ تجربات سے ثابت ہوا ہے کہ مٹی میں موجود بھاری دھاتیں اور تحلیل شدہ مادے وفاقی حفاظتی معیارات سے کہیں زیادہ ہیں۔
توانائی کی صنعت اسے "مشینری کی خرابی” قرار دے کر ان واقعات کو الگ تھلگ قرار دینے کی کوشش کرتی ہے۔ تاہم، جس تعدد کے ساتھ یہ واقعات رپورٹ ہو رہے ہیں، وہ اس نظام کی فرسودہ تنصیبات کی جانب اشارہ کرتے ہیں جن کی بروقت جانچ پڑتال نہیں کی جا رہی۔
اوہائیو حکومت ایک طرف تیل کی کھدائی سے ہونے والی معاشی آمدنی پر نظر رکھے ہوئے ہے، تو دوسری طرف زمین پر بسنے والے افراد اپنی اور اپنے مویشیوں کی زندگی بچانے کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ ان خاندانوں کے لیے یہ کوئی سیاسی بحث نہیں، بلکہ روزمرہ کا وہ عذاب ہے جو زمین کے نیچے سے ابل کر ان کے گھروں تک پہنچ رہا ہے۔
