کراچی — شہرِ قائد کے سول ہسپتال میں 12 سالہ لڑکا ریبیز کے باعث دم توڑ گیا، جس کے بعد رواں برس سندھ میں اس وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 14 تک پہنچ گئی ہے۔ مقتول کا تعلق شہر کے مضافاتی علاقے سے تھا اور اسے تین ہفتے قبل ایک آوارہ کتے نے کاٹا تھا۔
ہسپتال ذرائع کے مطابق بچہ مرض کے آخری مراحل میں لایا گیا تھا، جہاں طبی عملے کے پاس اسے بچانے کی گنجائش ختم ہوچکی تھی اور صرف تکلیف کم کرنے کے اقدامات ہی کیے جاسکے۔ یہ واقعہ شہر میں صحتِ عامہ کے اس سنگین بحران کی عکاسی کرتا ہے جس نے مقامی حکومت کے دعووں کو بے نقاب کر دیا ہے جبکہ شہری روزانہ کی بنیاد پر جان لیوا خطرات کا سامنا کر رہے ہیں۔
کیسز میں اضافے کی بنیادی وجہ شہر کا ناقص حفاظتی نظام ہے۔ محکمہ صحت سندھ کے بارہا دعووں کے باوجود کہ بڑے ہسپتالوں میں اینٹی ریبیز ویکسین وافر مقدار میں موجود ہے، بنیادی مراکزِ صحت میں ویکسین کی قلت برقرار ہے۔ متاثرہ خاندان اکثر سرکاری ہسپتالوں میں ویکسین نہ ملنے پر مہنگی اور درآمد شدہ خوراکیں نجی میڈیکل اسٹورز سے خریدنے پر مجبور ہیں۔
متاثرہ بچے کے چچا نے ہسپتال کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، "ہمیں مقامی کلینک پر ایک خوراک بھی نہیں ملی۔ جب تک ہم شہر کے مرکز تک پہنچے، ویکسین کے اثر دکھانے کا وقت گزر چکا تھا۔”
ماہرینِ صحت کے مطابق یہ دوہری ناکامی ہے؛ ایک طرف آوارہ کتوں کی آبادی کو کنٹرول کرنے کا کوئی پائیدار پروگرام نہیں اور دوسری طرف جان بچانے والی ادویات کی سپلائی چین مکمل طور پر غیر مؤثر ہے۔ اگرچہ کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) نے وقتاً فوقتاً کتوں کو مارنے کی مہم چلائی ہے، لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات جذباتی اور غیر سائنسی ہیں، جن کا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے سے کوئی تعلق نہیں۔
صوبائی حکومت کا ریبیز کنٹرول پروگرام تاحال کاغذوں تک محدود ہے۔ فنڈز تو مختص کر دیے گئے، مگر ضلعی صحت کے دفاتر اور بلدیاتی اداروں کے درمیان عدمِ مطابقت نے پورے نظام کو مفلوج کر رکھا ہے۔
کراچی کے باسیوں کے لیے یہ اعداد و شمار اب صرف خبر نہیں، ایک خوفناک حقیقت بن چکے ہیں۔ گرمی بڑھتے ہی آوارہ جانوروں کی نقل و حرکت میں تیزی آتی ہے، جس سے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر ویکسین کی فراہمی کو یونین کونسل کی سطح تک نہ پہنچایا گیا تو ہلاکتوں کا یہ سلسلہ تھمنے والا نہیں۔
فرنٹ لائن پر موجود طبی سہولیات کی عدم دستیابی کے باعث، اب ہر کتے کا کاٹنا محض ایک طبی ایمرجنسی نہیں، بلکہ موت کے ساتھ ایک ایسی دوڑ ہے جس میں انتظامیہ کا گھڑی کے ساتھ تال میل کہیں نظر نہیں آتا۔
