ڈیون اور کارنوال کے ساحلی علاقوں میں گزشتہ رات آسمان پر ‘بک مون’ کا شاندار نظارہ دیکھنے میں آیا، جس نے سمندری لہروں اور ساحلی چٹانوں کو ایک منفرد چاندی جیسی روشنی میں نہلا دیا۔ پینزینس سے پلائی ماؤتھ تک کے رہائشیوں نے بادلوں کی ہلکی موجودگی کے باوجود اس فلکیاتی منظر کو اپنے کیمروں اور آنکھوں میں محفوظ کیا۔
جولائی کا یہ مکمل چاند روایتی طور پر ‘بک مون’ کہلاتا ہے۔ یہ نام اس موسم کی مناسبت سے رکھا گیا ہے جب نر ہرنوں کے نئے سینگ نکلنا شروع ہوتے ہیں۔ ماہرینِ فلکیات کے مطابق، یہ چاند معمول کے مقابلے میں تقریباً 14 فیصد بڑا اور 30 فیصد زیادہ روشن دکھائی دیا، جس کی بنیادی وجہ زمین کے مدار میں چاند کا معمول سے زیادہ قریب ہونا تھا۔
لینڈز اینڈ کی چٹانوں پر موجود مبصرین کے لیے یہ منظر خاص تھا؛ سورج غروب ہوتے ہی چاند افق پر نمودار ہوا اور بحر اوقیانوس کی لہروں پر اس کا عکس بکھر گیا۔ سوشل میڈیا پر مقامی لوگوں نے سینٹ مائیکل ماؤنٹ جیسے تاریخی مقامات کے پس منظر میں چاند کی تصاویر شیئر کیں، جو رات کے اندھیرے میں کسی دیوہیکل چراغ کی طرح دکھائی دے رہا تھا۔
یہ منظر صرف بصری لطف تک محدود نہیں رہا، بلکہ اس نے ساحلی علاقوں میں لہروں کی اونچائی میں بھی اضافہ کیا۔ سمندری حکام نے پہلے سے ہی خبردار کر رکھا تھا کہ چاند کی قربت کے باعث کششِ ثقل میں اضافے سے لہریں معمول سے زیادہ بلند ہو سکتی ہیں، جس کے پیشِ نظر ساحلی راستوں پر احتیاطی تدابیر اختیار کی گئیں۔
اگرچہ ‘سپر مون’ کی اصطلاح پر ماہرین کے درمیان بحث جاری رہتی ہے، لیکن اس کی غیر معمولی چمک سے انکار ممکن نہیں۔ رات بھر چاند کا مقام برجِ جدی میں رہا، جس کی وجہ سے یہ جنوبی آسمان پر قدرے نیچے دکھائی دیا اور زمینی منظر کے ساتھ مل کر انسانی آنکھ کو بہت بڑا محسوس ہوا۔
جن لوگوں سے یہ نظارہ چھوٹ گیا، ان کے لیے خوشخبری یہ ہے کہ چاند اگلے دو روز تک مکمل دکھائی دیتا رہے گا، اگرچہ اس کی چمک میں بتدریج کمی آئے گی۔ اگلا مکمل چاند، جسے ‘اسٹرجن مون’ کہا جاتا ہے، اگست کے وسط میں متوقع ہے، تاہم وہ اس بار کی طرح زمین کے اتنا قریب نہیں ہوگا۔
