پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے افتتاحی ‘نیشنل چیمپئنز کپ’ کا شیڈول اور اسکواڈز حتمی کر دیے ہیں۔ یہ ٹورنامنٹ ڈومیسٹک کرکٹ کے معیار اور بین الاقوامی تقاضوں کے درمیان خلیج کو ختم کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ ڈولفنز، لائنز، پینتھرز، اسٹالینز اور وولوز پر مشتمل پانچ ٹیمیں 12 ستمبر سے فیصل آباد میں مدمقابل ہوں گی۔
یہ ٹورنامنٹ محض ایک مقامی ایونٹ نہیں، بلکہ پی سی بی کی جانب سے ٹیلنٹ کو ایک مرکز پر لانے کی کوشش ہے۔ ملک کے بہترین 150 کھلاڑیوں کو ہائی پریشر ماحول میں ایک دوسرے کے خلاف میدان میں اتار کر سلیکٹرز نے واضح کر دیا ہے کہ قومی ٹیم کے دروازے اب صرف اسی ٹورنامنٹ کی کارکردگی سے کھلیں گے۔
گروپ مرحلے میں ہر ٹیم چار میچ کھیلے گی۔ پوائنٹس ٹیبل پر سرفہرست چار ٹیمیں پلے آف مرحلے میں پہنچیں گی، جس کا فائنل 29 ستمبر کو اقبال اسٹیڈیم میں ہوگا۔
اسکواڈز کا انتخاب تجربہ کار کھلاڑیوں اور ابھرتے ہوئے ٹیلنٹ کا امتزاج ہے۔ بابر اعظم، محمد رضوان، شاہین شاہ آفریدی، شاداب خان اور محمد حارث اپنی اپنی ٹیموں کی قیادت اور رہنمائی کریں گے۔ ان کپتانوں کی ذمہ داری صرف جیتنا نہیں، بلکہ قومی سلیکٹرز کی نگرانی میں اگلی نسل کے کھلاڑیوں کو تیار کرنا بھی ہے۔
پی سی بی نے اس ایونٹ کے لیے فٹنس اور کارکردگی کے سخت معیار مقرر کیے ہیں۔ جو کھلاڑی ان معیارات پر پورا نہیں اتریں گے یا ہائی انٹینسٹی میچز میں ناکام رہے، ان کے لیے قومی اسکواڈ تک رسائی کا راستہ تقریباً بند ہو جائے گا۔
پی سی بی کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ "یہ ہمارے ڈومیسٹک کیلنڈر کا سب سے اہم ایونٹ ہے،” جس کا ڈھانچہ بین الاقوامی کرکٹ کی شدت کو مدنظر رکھ کر ترتیب دیا گیا ہے۔
اب گیند کھلاڑیوں کے کورٹ میں ہے۔ قومی ٹیم کی حالیہ مایوس کن کارکردگی کے بعد، یہ کپ ایک فلٹر کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ ٹورنامنٹ پاکستان کی بین الاقوامی کرکٹ کو درکار نیا ٹیلنٹ فراہم کر پائے گا یا نہیں، اس کا فیصلہ آنے والے اٹھارہ دنوں میں میدان میں ہونے والی کارکردگی ہی کرے گی۔
