امریکا نے واضح کیا ہے کہ ایران کی قومی فٹبال ٹیم 2026 فیفا ورلڈ کپ میں شرکت کر سکتی ہے، لیکن ایسے افراد کو امریکا میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی جن کے بارے میں واشنگٹن یہ سمجھے کہ ان کے روابط ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور، یعنی آئی آر جی سی، سے ہیں۔ امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ ایرانی کھلاڑیوں کی شرکت پر اعتراض نہیں، البتہ آئی آر جی سی سے وابستہ لوگوں کو ٹیم وفد کا حصہ بنا کر لانے کی کوشش قبول نہیں کی جائے گی۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب امریکی خصوصی ایلچی پاؤلو زامپولی نے یہ تجویز دی تھی کہ اگر ایران ٹورنامنٹ میں شریک نہ ہو سکے تو اس کی جگہ اٹلی کو شامل کیا جائے۔ مگر اٹلی کے حکام نے اس خیال کو فوری طور پر مسترد کر دیا۔ اطالوی حکام کا کہنا تھا کہ ورلڈ کپ میں جگہ میدان میں کارکردگی سے بنتی ہے، سیاسی سفارش سے نہیں، اور اٹلی ویسے بھی اس ٹورنامنٹ کے لیے کوالیفائی نہیں کر سکا۔
فیفا نے بھی اب تک ایران کی شرکت برقرار رکھی ہے۔ ادارے کے شائع کردہ 2026 ورلڈ کپ شیڈول کے مطابق ایران گروپ جی میں شامل ہے اور اس کا پہلا میچ 15 جون کو نیوزی لینڈ کے خلاف لاس اینجلس میں ہوگا۔ اس کے بعد ایران 21 جون کو بیلجیئم سے سیئٹل میں اور 26 جون کو مصر کے خلاف دوبارہ گروپ مرحلے کا میچ کھیلے گا۔
اصل مسئلہ اب یہ نہیں لگتا کہ ایران کی ٹیم میدان میں اترے گی یا نہیں؛ اصل سوال یہ ہے کہ ٹیم کے ساتھ کون سفر کرے گا، کن افراد کو ویزا ملے گا، اور امریکی سکیورٹی ادارے کس حد تک سخت جانچ پڑتال کریں گے۔ چونکہ آئی آر جی سی امریکا کی غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل ہے، اس لیے واشنگٹن کے پاس قانونی بنیاد موجود ہے کہ وہ مبینہ طور پر منسلک افراد کا داخلہ روک سکے، چاہے کھلاڑیوں کو کھیلنے کی اجازت دے دی جائے۔
ایران کی طرف سے بھی یہ اشارہ دیا گیا ہے کہ وہ ٹورنامنٹ میں شرکت کے لیے تیار ہے۔ اس سارے تنازعے کے باوجود فی الحال فیفا کے مؤقف، امریکی بیان اور شائع شدہ میچ شیڈول سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کی ٹیم ورلڈ کپ میں اپنی جگہ برقرار رکھے ہوئے ہے، جبکہ پسِ منظر میں سفارتی اور سکیورٹی کشیدگی الگ چلتی رہے گی۔
