غزہ کا صحت کا نظام مکمل تباہی کے دہانے پر ہے۔ موسم سرما کی بارشیں قریب ہیں اور عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ تباہ شدہ انفراسٹرکچر، شدید گنجانی اور صفائی ستھرائی کے فقدان کا امتزاج وبائی امراض کے ایک نئے طوفان کو جنم دے سکتا ہے۔
عالمی ادارے کی تازہ ترین رپورٹ صورتحال کو انتہائی سنگین قرار دیتی ہے۔ مہینوں کی بمباری نے طبی سہولیات کو مفلوج کر دیا ہے، اور خراب موسم بے گھر ہونے والے تقریباً بیس لاکھ افراد کے لیے مزید مشکلات پیدا کرے گا۔ عارضی خیموں میں رہنے والے ان لوگوں کے پاس سردی سے بچنے کا کوئی مناسب انتظام نہیں ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے ایک علاقائی مشیر نے خدشہ ظاہر کیا کہ ہم ایک ایسے بحران کی طرف بڑھ رہے ہیں جہاں سانس کی بیماریوں اور ہیضہ جیسے وبائی امراض کا پھیلاؤ ناگزیر ہے۔
پانی کی قلت پہلے ہی انتہا پر ہے۔ بے گھر افراد کو فی کس تین لیٹر سے بھی کم پانی میسر ہے، جو عالمی معیار کے مطابق ہنگامی سطح سے بھی بہت نیچے ہے۔ بارشیں شروع ہوتے ہی نکاسی آب کے نظام کی عدم موجودگی کے باعث سیوریج کا گندا پانی رہائشی علاقوں میں داخل ہو جائے گا، جس سے ہیضہ اور جلد کی بیماریوں میں تیزی سے اضافہ ہوگا۔
غزہ کے اسپتال اس وقت اپنی صلاحیت سے بہت کم کام کر رہے ہیں۔ بجلی، اینٹی بائیوٹکس اور اینستھیزیا جیسی بنیادی سہولیات کا فقدان ہے۔ سرجنز اکثر فرش پر بیٹھ کر آپریشن کرنے پر مجبور ہیں کیونکہ ادویات اور طبی سامان کی ترسیل سرحدی رکاوٹوں کی نذر ہو رہی ہے۔
امدادی تنظیمیں مسلسل مطالبہ کر رہی ہیں کہ طبی سامان اور ایندھن کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے تاکہ پانی پمپ کرنے والے اسٹیشن چل سکیں۔ تاہم، امداد کا سلسلہ تاحال غیر یقینی ہے۔ عالمی ادارہ صحت کا ماننا ہے کہ اگر وسائل کی فوری فراہمی نہ ہوئی تو اموات کی شرح میں صرف زخمیوں کی وجہ سے نہیں، بلکہ قابلِ علاج بیماریوں کے باعث بھی اضافہ ہوگا۔
سردی کا موسم موجودہ بحران کو ایک بڑی تباہی میں بدل دے گا۔ جب درجہ حرارت گرے گا اور بارشیں خیموں کی پلاسٹک شیٹوں کو بھگو دیں گی، تو طبی عملے کی ترجیح زخمیوں کے علاج سے ہٹ کر وبائی امراض پر قابو پانے کی طرف منتقل ہو جائے گی۔ غزہ کے رہائشیوں کے لیے آنے والے ہفتے صرف جنگ سے بچنے کے نہیں، بلکہ قدرت کے قہر سے نبردآزما ہونے کے ہیں۔
