پاکستان میں پاسپورٹ کے حصول کا عمل اب روایتی اور سست رفتار مراحل سے نکل کر ڈیجیٹل دور میں داخل ہو گیا ہے۔ نادرا نے ایک ایسا نیا تصدیقی نظام متعارف کرایا ہے جس کے تحت پاسپورٹ درخواست دہندگان کی شناخت کی تصدیق اب منٹوں میں ممکن ہو سکے گی۔ اس اقدام کا مقصد پاسپورٹ آفس میں برسوں سے جاری طویل انتظار اور انسانی غلطیوں کے باعث ہونے والی تاخیر کو ختم کرنا ہے۔
نیا نظام پاسپورٹ کے ڈیٹا بیس کو براہِ راست نادرا کی سول رجسٹری سے منسلک کرتا ہے۔ اب درخواست دہندگان کو لوکل پولیس یا ضلعی انتظامیہ سے تصدیقی پرچیوں کے لیے ہفتوں انتظار کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ سسٹم خودکار طریقے سے نادرا کے ڈیٹا بیس سے بائیو میٹرک اور رہائشی کوائف کی تصدیق کر کے فائل کو اگلے مرحلے میں بھیج دے گا۔
شہریوں کے لیے یہ ایک بڑی سہولت ہے۔ ماضی میں "ویریفیکیشن پینڈنگ” کی وجہ سے ہزاروں درخواستیں مہینوں تک متعلقہ تھانوں یا دفاتر کی میزوں پر پڑی رہتی تھیں، جس سے بیرونِ ملک جانے کے خواہشمند افراد شدید مشکلات کا شکار تھے۔ وزارتِ داخلہ کے مطابق، اس خودکار عمل سے پاسپورٹ کے زیر التواء کیسز کے ڈھیر کو تیزی سے نمٹانے میں مدد ملے گی۔
اس منصوبے سے واقف ایک اعلیٰ عہدیدار کا کہنا ہے کہ "ہم سسٹم میں موجود رکاوٹوں کو ہٹا رہے ہیں۔ اگر آپ کا ڈیٹا آپ کے شناختی کارڈ سے میچ کرتا ہے اور آپ کا ریکارڈ کلین ہے، تو سسٹم آپ کو فوری کلیئرنس دے گا۔ اب فائل کے ہفتوں تک بلاوجہ رکے رہنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔”
یہ تبدیلی صرف رفتار کے لیے نہیں، بلکہ سیکیورٹی کے لیے بھی اہم ہے۔ ڈیجیٹل تصدیق سے ایک ناقابلِ تردید آڈٹ ٹریل بنتا ہے۔ ہر بار جب پاسپورٹ پروسیس ہوتا ہے، سسٹم یہ ریکارڈ محفوظ کر لیتا ہے کہ کس افسر نے ڈیٹا تک رسائی حاصل کی اور تصدیق کب ہوئی۔ اس سے جعلی دستاویزات یا نقلی شناخت کے ذریعے پاسپورٹ بنوانے کا راستہ بند ہو جائے گا، جو ماضی میں بین الاقوامی سطح پر تشویش کا باعث بنتا رہا ہے۔
تاہم، یہ نظام انسانی نگرانی کا مکمل متبادل نہیں ہے۔ پیچیدہ کیسز، مثلاً نام میں تبدیلی، ریکارڈ کا گم ہونا یا قانونی تنازعات، اب بھی دستی جائزے کے لیے مارک کیے جائیں گے۔ حکام نے واضح کیا کہ ڈیجیٹل راستہ صرف عام تجدید اور کلین ریکارڈ رکھنے والے نئے درخواست دہندگان کے لیے ترجیحی بنیادوں پر کھولا گیا ہے۔
اس نظام کی کامیابی کا انحصار نادرا کے سرورز کی کارکردگی پر ہے۔ ماضی میں رش کے اوقات میں نادرا کا ڈیٹا بیس اکثر سست روی کا شکار رہا ہے، اور اگر تصدیقی عمل میں ذرا سی بھی تکنیکی خرابی آئی تو پاسپورٹ کی چھپائی کا عمل رک سکتا ہے۔
وزارتِ داخلہ اس منتقلی کی نگرانی کر رہی ہے۔ اگر موجودہ حجم کے ساتھ یہ ڈیجیٹل تصدیقی نظام کامیاب رہتا ہے، تو اسے سال کے آخر تک بیرونِ ملک پاکستانی سفارتخانوں تک پھیلانے کا منصوبہ ہے۔ یہ فیصلہ ان لاکھوں پاکستانیوں کے لیے بڑی ریلیف ثابت ہو سکتا ہے جو پاسپورٹ کی تجدید کے لیے طویل انتظار کے کوفت سے گزر رہے ہیں۔
