لاہور: پنجاب کی وزیرِ اطلاعات عظمیٰ بخاری نے خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ علی امین گنڈاپور کی سیاسی تحریک پر کڑی تنقید کرتے ہوئے اسے "عوامی تحریک” کے بجائے "چارٹرڈ طیاروں کی تحریک” قرار دیا ہے۔
لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عظمیٰ بخاری نے کہا کہ علی امین گنڈاپور کی سیاسی حکمتِ عملی اور ان کی سفری سہولیات میں واضح تضاد ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایک جانب پی ٹی آئی قیادت سڑکوں پر نکلنے اور وفاقی حکومت کے خلاف مزاحمت کی بات کرتی ہے، دوسری جانب ان کی اپنی نقل و حرکت عام کارکن کی پہنچ سے کوسوں دور، نجی طیاروں کے ذریعے ہوتی ہے۔
صوبائی وزیر نے طنزیہ لہجے میں کہا کہ "وزیرِ اعلیٰ تحریک تو چلا رہے ہیں، مگر یہ تحریک چارٹرڈ طیاروں پر سوار ہو کر چلائی جا رہی ہے۔” ان کا موقف تھا کہ خیبر پختونخوا کے سرکاری وسائل کو عوامی فلاح کے بجائے ذاتی سیاسی مقاصد اور پارٹی متحرک کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
یہ بیان مسلم لیگ (ن) اور پی ٹی آئی کے درمیان جاری لفظی جنگ کا ایک حصہ ہے۔ پنجاب حکومت مسلسل یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہی ہے کہ اپوزیشن کی احتجاجی سیاست کا مقصد ملک میں انتشار پھیلانا ہے، جبکہ اس کا عام آدمی کی معاشی مشکلات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
عظمیٰ بخاری نے علی امین گنڈاپور کو چیلنج کیا کہ وہ سڑکوں پر توانائی ضائع کرنے کے بجائے خیبر پختونخوا میں اپنی کارکردگی کا حساب دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے سیاسی ہیجان پیدا کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب تحریکِ انصاف کا مؤقف رہا ہے کہ ان کا احتجاج مینڈیٹ کی چوری اور جمہوری اقدار کی پامالی کے خلاف ایک ناگزیر ردِعمل ہے۔ علی امین گنڈاپور ماضی میں بھی اپنے بیانات میں اس عزم کا اظہار کر چکے ہیں کہ وہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق، یہ بیان بازی اس بات کا ثبوت ہے کہ دونوں بڑی جماعتیں اب پالیسی بحث کے بجائے ایک دوسرے کی ذاتی ساکھ کو نشانہ بنانے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔ عوامی سطح پر اس کا کیا اثر پڑتا ہے، یہ آنے والے دنوں میں احتجاج کی کامیابی یا ناکامی سے واضح ہو جائے گا۔
فی الحال، لاہور سے آنے والے یہ طنزیہ جملے اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ سیاسی محاذ آرائی اب صرف نعروں تک محدود نہیں، بلکہ اس کے پیچھے موجود وسائل اور طرزِ زندگی بھی بحث کا حصہ بن چکے ہیں۔
