ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کاش پٹیل نے اپنے خلاف شراب نوشی، غیر حاضری اور فرائض میں کوتاہی کے الزامات سختی سے مسترد کر دیے ہیں اور کہا ہے کہ یہ دعوے سراسر جھوٹ ہیں۔ اس معاملے نے اس وقت نئی شدت اختیار کی جب پٹیل نے دی اٹلانٹک اور اس کی رپورٹر سارہ فٹزپیٹرک کے خلاف 25 کروڑ ڈالر کا ہتکِ عزت کا مقدمہ دائر کر دیا۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق پٹیل کا مؤقف ہے کہ رپورٹ نے ان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے لیے غلط اور بدنیتی پر مبنی دعوے شائع کیے۔
تنازعے کی بنیاد دی اٹلانٹک کی اس رپورٹ میں ہے جس میں نام ظاہر نہ کرنے والے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا کہ پٹیل بعض مواقع پر ضرورت سے زیادہ شراب نوشی کرتے تھے، اہم ملاقاتوں سے غیر حاضر رہتے تھے اور بعض حساس لمحات میں ان تک رسائی مشکل ہو جاتی تھی۔ اے پی کی رپورٹ کے مطابق مضمون میں یہ بھی کہا گیا کہ ایف بی آئی اور محکمہ انصاف کے بعض اہلکار ان الزامات کے باعث فکرمند تھے۔
پٹیل نے ان تمام باتوں کو دو ٹوک انداز میں رد کیا ہے۔ الجزیرہ کی 22 اپریل 2026 کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے واضح کہا کہ وہ کبھی “ڈیوٹی کے دوران نشے میں” نہیں رہے اور نہ ہی اپنی ذمہ داریوں سے غائب ہوئے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ کہانی حقائق پر نہیں بلکہ بے نام ذرائع کے الزامات پر کھڑی کی گئی ہے۔
اے پی کے مطابق پٹیل کے مقدمے میں الزام لگایا گیا ہے کہ اشاعت سے پہلے مؤقف لینے کے عمل میں بھی جلد بازی کی گئی اور میگزین نے ان کی تردید کو نظر انداز کیا۔ دوسری طرف دی اٹلانٹک نے کہا ہے کہ وہ اپنی رپورٹنگ پر قائم ہے اور اس مقدمے کا بھرپور دفاع کرے گا۔ یوں اب یہ معاملہ صرف سیاسی یا میڈیا بحث نہیں رہا بلکہ عدالت میں ثبوت، ذرائع اور ہتکِ عزت کے قانونی معیار کی کسوٹی پر پرکھا جائے گا۔
اس خبر کا ایک بڑا پہلو یہ بھی ہے کہ امریکہ میں میڈیا اور طاقتور سیاسی شخصیات کے درمیان قانونی محاذ آرائی بڑھتی جا رہی ہے۔ پٹیل، جو سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی اتحادی سمجھے جاتے ہیں، اس مقدمے کو اپنی ساکھ کے دفاع کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ لیکن امریکی قانون میں کسی عوامی شخصیت کے لیے ہتکِ عزت کا مقدمہ جیتنا آسان نہیں ہوتا، کیونکہ اسے یہ بھی ثابت کرنا پڑتا ہے کہ خبر جان بوجھ کر جھوٹ یا سنگین لاپروائی کے ساتھ شائع کی گئی۔ یہ نکتہ بھی اے پی کی رپورٹ میں نمایاں ہے۔
فی الحال صورتِ حال یہ ہے کہ ایک جانب ایک بڑی امریکی اشاعت اپنی رپورٹ پر قائم ہے، اور دوسری جانب ایف بی آئی ڈائریکٹر ان دعوؤں کو من گھڑت قرار دے رہے ہیں۔ اصل فیصلہ اب عدالت اور مزید سامنے آنے والے شواہد کریں گے۔ ابھی کے لیے اتنا ضرور ہے کہ یہ معاملہ امریکی سیاست، میڈیا کی ساکھ، اور وفاقی قانون نافذ کرنے والے ادارے کی قیادت—تینوں کو ایک ساتھ سوالوں کے دائرے میں لے آیا ہے۔
