لندن، 22 اپریل — برطانیہ میں بدھ کے روز ایسے فوجی مذاکرات شروع ہوئے جن میں 30 سے زیادہ ممالک کے نمائندے شریک ہیں، اور مقصد فرانس اور برطانیہ کی قیادت میں ایک ایسے مشن کی عملی شکل طے کرنا ہے جو حالات سازگار ہونے پر آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو محفوظ بنا سکے۔ برطانوی حکومت کے مطابق یہ دو روزہ اجلاس لندن کے قریب نارتھ وُڈ میں ہو رہا ہے اور اس کا زور ایک “آزاد اور مکمل طور پر دفاعی” کثیر الملکی انتظام پر ہے۔
اس منصوبے کی بنیادی سوچ یہ ہے کہ تجارتی جہازوں کے لیے راستہ محفوظ بنایا جائے، شپنگ کمپنیوں کا اعتماد بحال کیا جائے اور ضرورت پڑنے پر بارودی سرنگوں کی صفائی جیسے اقدامات کیے جائیں۔ لندن اور پیرس پہلے ہی یہ واضح کر چکے ہیں کہ یہ کوئی جارحانہ فوجی اتحاد نہیں بلکہ بین الاقوامی قانون کے تحت ایک محدود نوعیت کا بحری تحفظی مشن ہوگا۔
یہ مذاکرات 17 اپریل کے اس بین الاقوامی سربراہ اجلاس کے بعد ہو رہے ہیں جس میں فرانس اور برطانیہ نے 51 ممالک کو اکٹھا کیا تھا۔ اس مشترکہ اعلامیے میں آزادیٔ جہاز رانی، عالمی معاشی استحکام اور توانائی کے تحفظ پر زور دیا گیا تھا، جبکہ یہ بھی کہا گیا تھا کہ آبنائے ہرمز کو فوری اور بغیر رکاوٹ دوبارہ کھولا جانا چاہیے۔ اسی اعلامیے نے برطانیہ اور فرانس کو ایک مشترکہ مشن کے لیے سفارتی بنیاد فراہم کی۔
اس پوری پیش رفت کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتی ہے۔ برطانوی موقف کے مطابق اس راستے میں رکاوٹ صرف خلیجی خطے کا مسئلہ نہیں رہتی بلکہ اس کے اثرات تیل کی قیمتوں، انشورنس اخراجات، سپلائی چین اور عالمی تجارت تک پھیلتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں، لندن کا یہ اجلاس محض عسکری منصوبہ بندی نہیں بلکہ عالمی معیشت کے ایک حساس اعصاب پر گفتگو ہے۔
مذاکرات ایک ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب خطے میں کشیدگی پوری طرح ختم نہیں ہوئی۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق بدھ کو ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے آبنائے ہرمز میں ایک کنٹینر جہاز پر فائرنگ کی، جس سے جہاز کو نقصان پہنچا۔ برطانیہ کے یو کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز مرکز نے بتایا کہ واقعہ صبح تقریباً 7:55 پر پیش آیا، فائرنگ سے پہلے کوئی وارننگ نہیں دی گئی، تاہم کسی جانی نقصان یا ماحولیاتی آلودگی کی اطلاع نہیں ملی۔
ابھی تک برطانوی اور فرانسیسی حکام یہ نہیں کہہ رہے کہ مشن فوراً تعینات کر دیا جائے گا۔ سرکاری بیانات کا لبِ لباب یہ ہے کہ عملی پیش رفت اسی وقت ہوگی جب جنگ بندی پائیدار شکل اختیار کرے اور سمندری راستہ دوبارہ کھولنے کے لیے کم از کم سلامتی کی ضمانت موجود ہو۔ لیکن 30 سے زیادہ ممالک کے فوجی منصوبہ سازوں کا ایک ہی میز پر جمع ہونا اس بات کا اشارہ ضرور ہے کہ لندن اور پیرس اس بار سیاسی فیصلے کا انتظار کرتے ہوئے بھی عسکری تیاری کو مؤخر نہیں کرنا چاہتے۔
یوں دیکھا جائے تو لندن کے یہ مذاکرات صرف جہازوں کی حفاظت کے بارے میں نہیں ہیں۔ یہ تیل، تجارتی راستوں، افراطِ زر، عالمی منڈیوں کے اعتماد اور مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے توازن سے جڑی ایک بڑی تصویر کا حصہ ہیں۔ اب اصل سوال یہ ہے کہ کیا سفارت کاری اتنی جلدی اور اتنی مضبوط ثابت ہوگی کہ اس مجوزہ مشن کو سمندر میں بھی اتارا جا سکے۔
