نئی دہلی — برکس سربراہی اجلاس آج اختتام پذیر ہو رہا ہے۔ اس تین روزہ کانفرنس نے عالمی مالیاتی نظام میں بڑی تبدیلیوں کے اشارے دے دیے ہیں، جس کا واضح مقصد مغرب کے اقتصادی تسلط کو چیلنج کرنا ہے۔
اجلاس کے آخری دن رکن ممالک کے سربراہان نے ایک ایسے مشترکہ ادائیگی کے نظام پر توجہ مرکوز رکھی جو امریکی ڈالر پر انحصار کو کم کر سکے۔ شرکاء کا ماننا ہے کہ عالمی تجارت کو مغربی پابندیوں سے محفوظ رکھنے کے لیے اب متبادل راستے تلاش کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔
ایک اعلیٰ سطح کے سفارت کار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا، "ہم محض ایک کلب نہیں بنا رہے، ہم ایک نئی بنیاد رکھ رہے ہیں۔” ان کا اشارہ اس بات کی طرف تھا کہ برکس اب محض بات چیت کا فورم نہیں بلکہ عملی معاشی اتحاد بننے کی طرف گامزن ہے۔
اجلاس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ بلاک اب دنیا کی نصف آبادی کی نمائندگی کرتا ہے۔ پس پردہ بات چیت کا محور ‘نیو ڈویلپمنٹ بینک’ کی استعداد کار بڑھانا ہے، تاکہ رکن ممالک مغربی کریڈٹ مارکیٹوں کے محتاج نہ رہیں۔
تاہم، چیلنجز بھی کم نہیں۔ بھارت اور چین کے درمیان سرحدی تناؤ بلاک کے اندرونی اتحاد کے لیے ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان سیاسی کشیدگی معاشی اہداف کے حصول میں مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔ منتظمین نے کوشش کی ہے کہ ان اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر صرف اقتصادی تعاون پر توجہ مرکوز رکھی جائے۔
آج سہ پہر جاری ہونے والے حتمی اعلامیے میں مقامی کرنسیوں میں تجارت کرنے کا روڈ میپ شامل ہونے کا امکان ہے۔ اگر یہ منصوبہ عملی جامہ پہنتا ہے تو عالمی جنوب میں توانائی اور اشیاء کی تجارت کا ڈھانچہ بدل سکتا ہے۔
سربراہانِ مملکت اب اپنے وطن واپسی کی تیاری کر رہے ہیں۔ کانفرنس ہال میں کیے گئے وعدے متاثر کن ہیں، لیکن ان وعدوں کو عملی شکل دینا ایک کٹھن مرحلہ ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا برکس ممالک اپنے باہمی اختلافات کو ایک طرف رکھ کر اس نئے مالیاتی نظام کو حقیقت بنا پائیں گے یا یہ محض ایک سفارتی بیان بازی تک محدود رہے گا۔
