پرشتینا کی پارلیمنٹ نے طویل سیاسی تعطل کا خاتمہ کرتے ہوئے نئی مخلوط حکومت کی منظوری دے دی ہے۔ اس پیش رفت کے ساتھ ہی بلقان کے اس ملک میں جاری وہ بحران ختم ہو گیا جس نے گزشتہ کئی ماہ سے قانون سازی کے عمل کو مفلوج کر رکھا تھا۔
جمعرات کی شب اراکینِ پارلیمنٹ نے نئی کابینہ کے حق میں ووٹ دے کر ملک میں جاری سیاسی خلا کو پُر کر دیا۔ نئی حکومت کو فوری طور پر کئی بڑے چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں معاشی بحالی، بے روزگاری میں کمی اور سربیا کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے جاری حساس مذاکرات شامل ہیں۔
ملک میں سیاسی بحران کا آغاز گزشتہ انتخابات کے بعد ہوا تھا، جس میں کسی بھی جماعت کو واضح مینڈیٹ نہیں ملا تھا۔ مہینوں تک جاری رہنے والی رسہ کشی اور وزارتوں کی تقسیم پر اختلافات کے باعث حکومت سازی کا عمل تعطل کا شکار رہا۔ اس تاخیر نے نہ صرف اہم ترقیاتی منصوبوں کو منجمد کر دیا بلکہ بین الاقوامی مالیاتی امداد کی فراہمی بھی سست پڑ گئی۔
نومنتخب وزیراعظم نے پارلیمنٹ سے اپنے پہلے خطاب میں کہا کہ "ہم بہت سا قیمتی وقت ضائع کر چکے ہیں۔” انہوں نے عدالتی اصلاحات اور انسدادِ بدعنوانی کو اپنی اولین ترجیح قرار دیا — یہ وہ مطالبات ہیں جو یورپی یونین کی جانب سے الحاق کے لیے طویل عرصے سے کیے جا رہے ہیں۔
تاہم، اپوزیشن جماعتوں نے اس اتحاد کو "مصلحت پسندی کا نام” دیتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ مخلوط حکومت صرف اقتدار بچانے کے لیے بنائی گئی ہے اور معمولی سا اندرونی اختلاف بھی حکومت کو دوبارہ انتخابات کی طرف دھکیل سکتا ہے۔
بین الاقوامی برادری، خاص طور پر واشنگٹن اور برلن، اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ مغربی سفارت کاروں کا ماننا ہے کہ کوسوو کے پاس اب داخلی لڑائیوں کے لیے مزید گنجائش نہیں ہے۔ نئی حکومت سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ بلغراد کے ساتھ مذاکرات کی میز پر فوری واپسی کرے گی، جو سیاسی بحران کے دوران مکمل طور پر بند پڑے تھے۔
پرشتینا کے عام شہریوں کے لیے نئی حکومت کا قیام ایک ریلیف تو ہے، لیکن مہنگائی اور نوجوانوں کی ملک سے نقل مکانی جیسے مسائل بدستور برقرار ہیں۔ حکومت کے لیے پہلا بڑا امتحان پیر کو ہونے والی بجٹ منظوری ہے، جو یہ طے کرے گی کہ یہ اتحاد قانون سازی کے قابل ہے یا پرانی غلطیوں کو دہرائے گا۔
