نئی دہلی — دارالحکومت میں اپنی رہائش گاہوں کے تحفظ کے لیے احتجاج کرنے والے مظاہرین اور حکومت کے درمیان منگل کو ہونے والا مذاکراتی دور کسی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گیا۔ مظاہرین، جنہیں مقامی حکام نے توہین آمیز انداز میں ‘لال بیگ’ کہہ کر مخاطب کیا تھا، شہری بے دخلی کی پالیسیوں کے خلاف اپنی تحقیقات کے مطالبے پر ڈٹے ہوئے ہیں۔
یہ تحریک اس وقت قومی سطح پر موضوع بحث بنی جب ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں ایک اعلیٰ میونسپل افسر کو رہائشیوں کے مسائل کو مسترد کرتے ہوئے یہ کہتے سنا گیا کہ "یہ لال بیگ ہیں جنہیں صاف کرنے کی ضرورت ہے۔”
حکام کی جانب سے تذلیل آمیز رویے کے جواب میں مظاہرین نے پسپائی اختیار کرنے کے بجائے اس توہین کو بطور علامت اپنا لیا۔ انہوں نے احتجاج کے دوران لال بیگ کے ماسک پہنے اور ایسے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر کیڑے کی تصاویر بنی تھیں۔
مذاکرات میں شریک کمیونٹی لیڈر رینا دیوی نے کہا، "ہم نے یہ لیبل خود نہیں چنا، لیکن اب ہم اسے اپنی پہچان بنا چکے ہیں۔ اگر حکومت ہمیں کیڑے سمجھتی ہے تو انہیں یہ جان لینا چاہیے کہ کیڑے ہر جگہ موجود ہوتے ہیں۔ ہم تب تک یہاں سے نہیں ہلیں گے جب تک ہماری منتقلی کے منصوبوں میں شفافیت نہیں آتی۔”
دوسری جانب حکومتی نمائندوں کا رویہ سخت رہا۔ وزارتِ ہاؤسنگ نے "منظم شہری ترقی” کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے جاری مسماری مہم کو روکنے سے صاف انکار کر دیا۔ وزارت کے ترجمان نے ‘لال بیگ’ والے بیان پر کوئی تبصرہ کرنے سے گریز کیا اور احتجاج کو "ضروری بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں میں رکاوٹ ڈالنے کی ایک سوچی سمجھی کوشش” قرار دیا۔
اس تعطل نے ہزاروں خاندانوں کو شدید غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔ مون سون کی آمد قریب ہے، اور بے گھر ہونے کا خوف لوگوں کی بے چینی میں مزید اضافہ کر رہا ہے۔
صورتحال پر نظر رکھنے والے قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت متبادل رہائش کی فراہمی سے متعلق ہائی کورٹ کے احکامات کی مسلسل خلاف ورزی کر رہی ہے۔ اس کے باوجود، حکام شہر کی توسیع کے نام پر بحالی سے زیادہ زمین خالی کروانے کو ترجیح دے رہے ہیں۔
منگل کی شب وزارت کے گیٹ کے باہر مظاہرین دوبارہ جمع ہوئے تو فضا میں کشیدگی برقرار تھی۔ فی الحال کسی مزید ملاقات کا کوئی شیڈول طے نہیں پایا۔ ‘لال بیگ’ کہلانے والے یہ مظاہرین اپنی جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کر رہے ہیں، جو اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ شہر کی توسیع اور اس کے غریب ترین طبقے کے درمیان جاری یہ کشمکش جلد ختم ہوتی دکھائی نہیں دیتی۔
