یروشلم: اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے باضابطہ طور پر متنازعہ ای ون (E1) سیٹلمنٹ منصوبے پر دستخط کر دیے ہیں، جسے مستقبل میں فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ میں بڑی رکاوٹ قرار دیا جا رہا ہے۔
معالیہ ادومیم، جو مقبوضہ مغربی کنارے میں سب سے بڑی اسرائیلی آبادیوں میں سے ایک ہے، میں دستخطی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نیتن یاہو نے دوٹوک اعلان کیا:
“فلسطینی ریاست قائم نہیں ہوگی، یہ جگہ ہماری ہے۔”
ای ون منصوبے کے تحت ہزاروں مکانات کی تعمیر کی جائے گی تاکہ معالیہ ادومیم کو مشرقی یروشلم سے جوڑا جا سکے۔ یہ منصوبہ تقریباً 12 مربع کلومیٹر پر محیط ہے اور اسرائیلی حکام اسے ایک اسٹریٹجک راہداری قرار دیتے ہیں۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ مغربی کنارے کو دو حصوں میں تقسیم کر دے گا، مشرقی یروشلم کو فلسطینی علاقوں سے کاٹ دے گا اور ایک متصل و خودمختار فلسطینی ریاست کو جغرافیائی طور پر ناممکن بنا دے گا۔
انسانی حقوق کی تنظیمیں اور بین الاقوامی ادارے طویل عرصے سے اس منصوبے کی مخالفت کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے بلکہ علاقے میں مقیم فلسطینی آبادی کے جبری بے دخلی کے خطرات بھی بڑھاتا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اس اقدام کو “دو ریاستی حل کے لیے وجودی خطرہ” قرار دیا اور خبردار کیا کہ یہ فیصلہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن کی کسی بھی امید کو تباہ کرتا ہے۔
یروشلم گورنریٹ نے بھی اس منصوبے کی مذمت کرتے ہوئے اسرائیل پر الزام لگایا کہ وہ بستیوں کے پھیلاؤ کو مشرقی یروشلم کے آبادیاتی توازن کو بدلنے کے ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔
اسی دوران فلسطینی گھروں اور املاک پر آبادکاروں کے حملوں میں بھی حالیہ مہینوں کے دوران اضافہ دیکھا گیا ہے، جس نے خطے میں خوف اور عدم استحکام کو مزید ہوا دی ہے۔
واضح رہے کہ ای ون منصوبہ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران بین الاقوامی دباؤ کے باعث بارہا معطل اور بحال ہوتا رہا ہے، تاہم نیتن یاہو کا تازہ ترین اقدام اس بات کا اظہار ہے کہ ان کی حکومت اب مذاکرات سے ہٹ کر متنازعہ علاقوں پر مستقل قبضہ مستحکم کرنے کی پالیسی پر گامزن ہے۔
