لاہور — پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے حکومتی اتحادی جماعت مسلم لیگ (ن) کے خلاف اپنے تلخ لہجے کو مزید تیز کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کو "فارم 47 کی پیداوار” قرار دے دیا ہے۔
ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو کا یہ بیان حکمران اتحاد کے اندر بڑھتی ہوئی خلیج کا واضح اشارہ ہے۔ فارم 47 کا حوالہ دے کر بلاول نے براہِ راست موجودہ حکومت کے مینڈیٹ کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھایا ہے، جو کہ 8 فروری کے عام انتخابات کے بعد سے سیاسی بحث کا مرکزی نقطہ بنا ہوا ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بجٹ سیشن سر پر ہے اور پنجاب میں ترقیاتی فنڈز کی تقسیم پر پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے درمیان سرد جنگ جاری ہے۔ پیپلز پارٹی کی قیادت کا ماننا ہے کہ حکومتی فیصلوں میں ان سے مشاورت نہیں کی جا رہی، جس پر جماعت کے اندر سخت بے چینی پائی جاتی ہے۔
پیپلز پارٹی کے ایک قریبی رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "پارٹی اب مزید خاموش نہیں رہ سکتی۔ جب ہمارے تحفظات کو نظر انداز کیا جائے گا تو سیاسی دوری بڑھنا فطری عمل ہے۔”
مسلم لیگ (ن) کی جانب سے تاحال اس بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا گیا ہے۔ جماعت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ قیادت اس اشتعال انگیزی کو نظر انداز کرنے کی حکمت عملی پر کاربند ہے تاکہ حکومت کی بقا کو خطرے میں نہ ڈالا جائے۔ تاہم، سیاسی مبصرین اسے بجٹ سے قبل حکومتی اتحادیوں کی جانب سے دباؤ ڈالنے کی ایک سوچی سمجھی مہم قرار دے رہے ہیں۔
یہ پہلا موقع نہیں جب پیپلز پارٹی نے انتخابی نتائج پر انگلیاں اٹھائی ہوں، لیکن پارٹی چیئرمین کی جانب سے براہِ راست اس اصطلاح کا استعمال اس اتحاد کی ٹوٹتی ہوئی بنیادوں کو ظاہر کرتا ہے۔
کیا یہ بیان صرف سیاسی سودے بازی کے لیے ایک دباؤ ہے یا یہ حکمران اتحاد کے خاتمے کا پیش خیمہ؟ اس کا جواب آنے والے دنوں میں بجٹ منظوری کے عمل کے دوران ملے گا۔ فی الحال، اس تلخ بیان نے وفاقی حکومت کی سیاسی ساکھ کو ایک بار پھر مشکل میں ڈال دیا ہے۔
