نئی دہلی: امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اتوار کے روز کہا ہے کہ ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے سے متعلق چند گھنٹوں میں اعلان ہو سکتا ہے، جس کا مقصد مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کو باضابطہ طور پر ختم کرنا اور آبنائے ہرمز سے متعلق خدشات دور کرنا ہے۔
نئی دہلی میں بھارتی وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے روبیو نے کہا کہ ممکن ہے دنیا کو دن کے اختتام تک “اچھی خبر” ملے۔ ان کے مطابق زیر غور سمجھوتہ آبنائے ہرمز سے متعلق امریکی خدشات کو بھی حل کرے گا، جو اس تنازع کا مرکزی نکتہ بن چکی ہے۔
روبیو کے بیان سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ “بڑی حد تک طے” ہو چکا ہے۔ مجوزہ سمجھوتے کا مقصد جنگ بندی، کشیدگی میں کمی اور اس اہم سمندری گزرگاہ کو دوبارہ کھولنا بتایا جا رہا ہے، جہاں سے عالمی تیل اور گیس تجارت کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ کوئی بھی معاہدہ واشنگٹن کے اس دیرینہ مقصد کی طرف پیش رفت بھی شروع کرے گا کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا کہ ممکنہ اعلان تمام تنازعات کے مکمل حل کے برابر نہیں ہوگا۔
آبنائے ہرمز اس بحران کا سب سے حساس مقام رہی ہے۔ اس راستے میں رکاوٹ نے عالمی توانائی منڈیوں کو متاثر کیا اور تیل کی ترسیل پر انحصار کرنے والے ممالک میں تشویش بڑھا دی۔ روبیو کے مطابق امریکا کا مؤقف واضح ہے کہ تجارتی جہازوں پر حملے یا سمندری راستے بند کرنا قابل قبول نہیں۔
دوسری جانب ایران نے محتاط ردعمل دیا ہے۔ ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار نے کہا ہے کہ تہران امریکا کے ساتھ مذاکرات میں اپنے مفادات پر سمجھوتہ نہیں کرے گا، کیونکہ واشنگٹن پر اعتماد موجود نہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر امریکا نے دوبارہ عسکری کارروائی کی تو ایران کا جواب پہلے سے زیادہ سخت ہوگا۔
سفارتی کوششوں میں کئی علاقائی ممالک بھی شامل رہے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق پاکستان، قطر اور مصر نے ثالثی کی کوششوں میں کردار ادا کیا ہے، جبکہ مجوزہ فریم ورک میں جنگ بندی، آبنائے ہرمز کو کھولنے کے اقدامات اور جوہری معاملات پر مزید بات چیت شامل ہو سکتی ہے۔
روبیو بھارت کے دورے پر تھے، جہاں تجارت، توانائی، سمندری سلامتی اور مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر بات چیت ہوئی۔ بھارتی حکام نے بھی محفوظ سمندری گزرگاہوں اور توانائی راستوں کے استحکام کی اہمیت پر زور دیا۔
فی الحال صورتحال نازک ہے۔ روبیو کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ سفارت کاری آگے بڑھی ہے، مگر حتمی مرحلے تک نہیں پہنچی۔ اتوار کو کوئی اعلان ہوا بھی تو امکان ہے کہ وہ مکمل معاہدے کے بجائے ابتدائی سیاسی فریم ورک ہوگا۔
اس کے باوجود، جزوی پیش رفت بھی اہم ہوگی۔ کئی ہفتوں کی جنگ اور بے یقینی کے بعد آبنائے ہرمز کا دوبارہ کھلنا اور جنگ بندی عالمی توانائی منڈیوں کو کچھ سکون دے سکتی ہے، جبکہ مذاکرات کاروں کو ایران کے جوہری مستقبل جیسے مشکل مسئلے پر بات آگے بڑھانے کا موقع ملے گا۔
