واشنگٹن: امریکا اور ایران ایک مجوزہ معاہدے کے قریب پہنچ گئے ہیں، جس کے تحت موجودہ جنگ بندی میں 60 روز کی توسیع، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور ایران کو اس عرصے کے دوران آزادانہ طور پر تیل فروخت کرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ مجوزہ انتظام ایک مفاہمتی یادداشت کی صورت میں تیار کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد مکمل جنگ کی واپسی روکنا اور دونوں فریقوں کو وسیع تر معاملات، خاص طور پر ایران کے جوہری پروگرام، پر بات چیت کے لیے وقت دینا ہے۔ مجوزہ معاہدے کے تحت ایران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولے گا، وہاں بچھائی گئی بارودی سرنگیں صاف کرے گا اور جہازوں کو بغیر ٹول کے گزرنے کی اجازت دے گا۔
اس کے بدلے امریکا ایرانی بندرگاہوں پر عائد اپنی ناکہ بندی ختم کرے گا اور کچھ پابندیوں میں چھوٹ دے گا، تاکہ ایران 60 روزہ جنگ بندی کے دوران تیل کی فروخت دوبارہ شروع کر سکے۔ رپورٹ کے مطابق اگر عمل آگے بڑھا تو واشنگٹن محدود پابندیوں میں نرمی اور کچھ منجمد ایرانی اثاثوں کی بحالی پر بھی غور کر سکتا ہے۔
آبنائے ہرمز اس بحران کا سب سے حساس نکتہ رہی ہے۔ یہ دنیا کے اہم ترین توانائی راستوں میں سے ایک ہے، اور یہاں طویل رکاوٹ عالمی تیل و گیس منڈیوں کو شدید متاثر کر سکتی ہے۔ اس راستے کا دوبارہ کھلنا عالمی منڈیوں کے لیے کسی حد تک ریلیف ہوگا، اگرچہ ماہرین کے مطابق توانائی کی مکمل روانی معمول پر آنے میں وقت لگ سکتا ہے۔
مجوزہ معاہدے میں جوہری معاملات سے متعلق نکات بھی شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنے کی یقین دہانی دے گا، جبکہ یورینیم افزودگی معطل کرنے اور انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو کم کرنے پر مذاکرات شروع ہوں گے۔ بعض یقین دہانیوں کو ثالثوں کے ذریعے دی گئی زبانی ضمانتیں بتایا گیا ہے، اس لیے حتمی متن میں ان کی تفصیل ابھی طے ہونا باقی ہو سکتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے الگ بیان میں کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا معاملہ “بڑی حد تک طے” ہو چکا ہے، تاہم حتمی منظوری اور آخری تبدیلیاں ابھی باقی ہو سکتی ہیں۔
وائٹ ہاؤس نے رپورٹ پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا، جبکہ یہ بھی واضح نہیں کہ تہران نے مسودے کے تمام نکات کو باضابطہ طور پر قبول کیا ہے یا نہیں۔ یہی غیر یقینی اہم ہے۔ کاغذ پر فریم ورک مضبوط دکھائی دے سکتا ہے، مگر جنگ بندی، پابندیوں، تیل کی فروخت اور جوہری حدود سے متعلق معاہدے اکثر الفاظ، نگرانی اور عمل درآمد کے مرحلے پر مشکل میں پڑ جاتے ہیں۔
سفارتی کوششوں میں علاقائی ثالثی کا کردار بھی نمایاں دکھائی دیتا ہے۔ رپورٹس کے مطابق پاکستان، قطر اور مصر سمیت کئی ممالک نے جنگ بندی برقرار رکھنے اور دونوں فریقوں کو وسیع تر سمجھوتے کی طرف لانے میں کردار ادا کیا ہے۔
اگر یہ معاہدہ طے پا گیا تو یہ واشنگٹن اور تہران کے تمام تنازعات ختم نہیں کرے گا۔ مگر یہ لڑائی روک سکتا ہے، توانائی منڈیوں پر دباؤ کم کر سکتا ہے اور جوہری مذاکرات کے لیے ایک مختصر مگر اہم موقع فراہم کر سکتا ہے۔
فی الحال پیغام محتاط مگر اہم ہے: امریکا اور ایران کئی ہفتوں بعد پہلی بار اس تنازع کو خطرناک موڑ سے واپس لانے کے قریب دکھائی دے رہے ہیں۔
