پیرس: فرانسیسی دارالحکومت میں درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر گیا ہے، جس کے بعد حکام نے شہر میں ‘ریڈ الرٹ’ جاری کر دیا ہے۔ شدید گرمی کے اس لہر کے دوران پیرس کے رہائشی معمولاتِ زندگی چھوڑ کر نہروں اور عوامی فواروں کا رخ کرنے پر مجبور ہیں۔
پیرس کی تاریخی عمارتیں، جو پتھروں سے بنی ہیں، گرمی کو اپنے اندر جذب کر رہی ہیں، جس سے شہر ایک ‘ہیٹ آئی لینڈ’ میں تبدیل ہو چکا ہے اور رات کے وقت بھی درجہ حرارت میں کوئی خاص کمی نہیں آ رہی۔ سیاح ٹروکاڈیرو کے فواروں میں ٹھنڈک تلاش کر رہے ہیں، لیکن مقامی لوگوں کے لیے اس شدید موسم میں گھر سے باہر نکلنا ایک چیلنج بن چکا ہے۔
صحت کے مقامی حکام کے مطابق ہیٹ اسٹروک اور گرمی سے متعلقہ بیماریوں کے باعث ہسپتالوں میں مریضوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ریڈ الرٹ کے تحت مقامی انتظامیہ کو عوامی اجتماعات منسوخ کرنے، اسکول بند کرنے اور سرکاری عمارتوں میں ‘کولنگ سینٹرز’ قائم کرنے کے وسیع اختیارات حاصل ہو گئے ہیں۔
ایک مقامی بیکری کے مالک مارک لیفیور نے دوپہر تک اپنی دکان بند کرتے ہوئے کہا، "گرمی تھمنے کا نام نہیں لے رہی۔ دوپہر دو بجے تک ہوا میں ایسی تپش محسوس ہوتی ہے جیسے سب کچھ جل رہا ہو۔ ہم اس موسم کے عادی نہیں ہیں۔”
موسمیات کے ماہرین کے مطابق مغربی یورپ پر ایک ‘ہیٹ ڈوم’ (حرارت کا غلاف) چھایا ہوا ہے، جو صحرائے صحارا سے گرم ہواؤں کو شمال کی طرف کھینچ رہا ہے۔ میٹیو فرانس (فرانسیسی محکمہ موسمیات) نے تصدیق کی ہے کہ موجودہ درجہ حرارت وسطِ موسمِ گرما کے تاریخی اوسط سے کہیں زیادہ ہے۔
ہنگامی خدمات کے اداروں نے بزرگوں اور بیمار افراد کو گھروں کے اندر رہنے کی ہدایت کی ہے، تاہم شہر کا پرانا انفراسٹرکچر—جس میں ایئر کنڈیشننگ کا وسیع نظام موجود نہیں—لاکھوں شہریوں کو اس حبس زدہ موسم کے رحم و کرم پر چھوڑ رہا ہے۔
سورج غروب ہونے کے باوجود سڑکیں اور کنکریٹ تپ رہے ہیں۔ محکمہ موسمیات نے اگلے 48 گھنٹوں تک درجہ حرارت میں نمایاں کمی کی کوئی پیش گوئی نہیں کی، جس کے بعد شہر بدستور ہائی الرٹ پر ہے اور شہری کسی قدرتی ٹھنڈک کے منتظر ہیں۔
