ریاض — سعودی وزارتِ داخلہ نے غیر قانونی تارکینِ وطن کے خلاف ایک ہفتے کے دوران چلائی جانے والی ملک گیر مہم کے دوران اقامہ، لیبر قوانین اور بارڈر سیکیورٹی ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والے 15 ہزار 288 افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔
سعودی سیکیورٹی اداروں کی جانب سے 11 جون سے 17 جون کے درمیان کی جانے والی اس مشترکہ کارروائی کے دوران مجموعی طور پر 7,864 افراد کو اقامہ کی خلاف ورزی، 4,576 کو سرحدی قوانین کی خلاف ورزی جبکہ 2,848 افراد کو لیبر قوانین (ملازمت کے ضوابط) کی خلاف ورزی پر حراست میں لیا گیا ہے۔
وزارتِ داخلہ کے مطابق، اس مہم کے دوران 1,668 افراد کو سرحد پار سے غیر قانونی طور پر سعودی عرب میں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہوئے گرفتار کیا گیا، جن میں 53 فیصد ایتھوپین، 46 فیصد یمنی اور 1 فیصد دیگر ممالک کے شہری شامل تھے۔ اس کے علاوہ 54 افراد کو غیر قانونی طریقے سے مملکت سے باہر فرار ہونے کی کوشش کے دوران بارڈر گارڈز نے گرفتار کیا۔
وزارت نے زیرِ حراست افراد کے خلاف کیے جانے والے انتظامی اقدامات کی تفصیلات بھی جاری کی ہیں:
-
ملک بدری اور کاغذات کی تیاری: متعلقہ مدت کے دوران 10,458 افراد کو فوری طور پر سعودی عرب سے ڈی پورٹ (ملک بدر) کر دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی 15,109 خلاف ورزی کرنے والوں کو سفری دستاویزات (ایمرجنسی پاسپورٹ) کے حصول کے لیے ان کے متعلقہ سفارت خانوں اور قونصل خانوں کے سپرد کیا گیا ہے، جبکہ 1,979 افراد کے بیرونِ ملک روانگی کے انتظامات کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔
-
قانونی کارروائی: اس وقت کل 23,587 غیر ملکی تارکینِ وطن، جن میں 21,758 مرد اور 1,829 خواتین شامل ہیں، کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جا رہی ہے۔
-
سہولت کاروں کی گرفتاری: مہم کے دوران غیر قانونی ورکرز کو پناہ دینے، انہیں ٹرانسپورٹ فراہم کرنے یا ملازمتوں پر رکھنے کے الزام میں 24 افراد کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔
سعودی حکام نے شہریوں اور کمپنیوں کو سخت وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو کوئی بھی غیر قانونی تارکینِ وطن کو مملکت میں داخل ہونے، انہیں لانے لے جانے، روزگار دینے یا رہائش فراہم کرنے میں ملوث پایا گیا، اسے 15 سال تک قید اور 10 لاکھ سعودی ریال تک بھاری جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی جرم میں استعمال ہونے والی گاڑیاں اور جائیدادیں بھی ضبط کر لی جائیں گی۔ وزارتِ داخلہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی خلاف ورزی کی اطلاع فوری طور پر حکومت کے مخصوص ایمرجنسی ہاٹ لائن نمبرز پر دیں
