نوشہرو فیروز — مقامی پولیس نے منگل کی شب نوشہرو فیروز کے نواحی گاؤں میں بروقت کارروائی کرتے ہوئے کم عمر لڑکی کی شادی کی تقریب ناکام بنا دی۔ پولیس نے نکاح سے چند لمحے قبل چھاپہ مار کر نکاح خواں اور دولہا کو حراست میں لے لیا۔
پولیس کو مقامی سماجی کارکنوں کی جانب سے خفیہ اطلاع ملی تھی کہ ایک کم عمر لڑکی کا نکاح زبردستی کروایا جا رہا ہے۔ چھاپے کے دوران 14 سالہ بچی کو دلہن کے لباس میں پایا گیا، جس کا رشتہ اس سے دگنی عمر کے شخص سے طے کیا گیا تھا۔
پولیس کی آمد کی اطلاع ملتے ہی تقریب میں بھگدڑ مچ گئی۔ نکاح خواں، دلہن کے والد اور دولہا نے تقریب کو کسی دوسری جگہ منتقل کرنے کی کوشش کی، تاہم پولیس نے موقع پر پہنچ کر تینوں کو گرفتار کر لیا۔
پولائی حکام کا کہنا ہے کہ "ہمیں اطلاع ملی تھی کہ ایک نابالغ بچی کو شادی کے بندھن میں جکڑا جا رہا ہے۔ نکاح کے کاغذات تیار کیے جا چکے تھے، لیکن ہم نے دستخط ہونے سے قبل ہی عمل روک دیا۔”
سندھ میں ‘چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ’ کے تحت شادی کی قانونی عمر 18 برس مقرر ہے، تاہم دیہی علاقوں میں یہ قانون اب بھی بڑی حد تک غیر مؤثر دکھائی دیتا ہے۔ اکثر خاندان عدالتی کارروائی سے بچنے کے لیے غیر رسمی جرگوں کا سہارا لیتے ہیں یا پھر لڑکی کی عمر کے غلط دستاویزات بنوا لیتے ہیں۔
متاثرہ بچی کو فی الحال مقامی چائلڈ پروٹیکشن بیورو کی تحویل میں دے دیا گیا ہے۔ طبی معائنے کے ذریعے بچی کی درست عمر کا تعین کیا جا رہا ہے، جس کی رپورٹ ملزمان کے خلاف مقدمے کی نوعیت طے کرنے میں مددگار ثابت ہوگی۔
گرفتار افراد کے خلاف صوبائی قوانین کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے، جس میں تین سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ پولیس اب اس پہلو کی بھی تفتیش کر رہی ہے کہ آیا یہ شادی مالی مفادات کے عوض طے پائی تھی یا روایتی دباؤ کا نتیجہ تھی۔
تفتیشی عمل جاری ہے۔
