مشہور یوٹیوبر مسٹر بیسٹ، جن کا اصل نام جمی ڈونلڈسن ہے، کی کمپنی بیسٹ انڈسٹریز نے سابق ملازمہ لورین میورومیٹس کی جانب سے دائر ہراسانی اور امتیازی سلوک کے مقدمے کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ دعویٰ حقائق کے منافی ہے، جبکہ درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ اسے جنسی ہراسانی، صنفی تعصب اور زچگی کی رخصت کے بعد انتقامی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا۔
وفاقی عدالت میں دائر مقدمے کے مطابق میورومیٹس، جو پہلے کمپنی کے انسٹاگرام کے امور سے وابستہ تھیں، نے الزام لگایا ہے کہ کام کی جگہ کا ماحول مردانہ غلبے اور نامناسب رویّوں سے بھرا ہوا تھا۔ ان کے بقول انہوں نے اندرونی سطح پر شکایات بھی کیں، مگر اس کے بعد انہیں مبینہ طور پر تنزلی کا سامنا کرنا پڑا اور پھر زچگی کی رخصت سے واپسی کے کچھ ہی عرصے بعد ملازمت سے نکال دیا گیا۔
کمپنی نے ان الزامات کو جھوٹا اور توجہ حاصل کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔ مختلف رپورٹس کے مطابق بیسٹ انڈسٹریز کا کہنا ہے کہ میورومیٹس کی ملازمت ان کی شکایات یا زچگی کی رخصت کی وجہ سے ختم نہیں کی گئی، بلکہ یہ ایک بڑی ادارہ جاتی تنظیمِ نو کا حصہ تھی، جس میں ایک کمزور کارکردگی والے شعبے کو ازسرِنو ترتیب دیا گیا۔ کمپنی نے یہ بھی کہا ہے کہ اس کے پاس داخلی پیغامات، اندرونی ریکارڈ اور گواہوں کے بیانات موجود ہیں جو مقدمے کے الزامات کی تردید کرتے ہیں۔
یہ مقدمہ صرف ایک انفرادی قانونی تنازع نہیں سمجھا جا رہا، بلکہ اس نے بیسٹ انڈسٹریز کے دفتری ماحول سے متعلق پرانے سوالات بھی دوبارہ زندہ کر دیے ہیں۔ خبر رساں اداروں کے مطابق 2024 میں بھی کمپنی کے ماحول اور رویّوں سے متعلق تنازعات سامنے آئے تھے، جس کے بعد کچھ اندرونی تبدیلیاں، قیادت میں ردوبدل اور پالیسیوں میں اصلاحات کی گئی تھیں۔
مسٹر بیسٹ نے خود بھی حالیہ عوامی گفتگو میں یہ تسلیم کیا ہے کہ کمپنی نے بہت تیزی سے ترقی کی، اور اسی وجہ سے بعد میں زیادہ تجربہ کار منتظمین کو لایا گیا تاکہ نظام کو زیادہ پیشہ ورانہ بنیادوں پر استوار کیا جا سکے۔ تاہم، یہ بیان مقدمے میں لگائے گئے مخصوص الزامات کی قانونی تردید سے الگ ہے، اور عدالت میں اصل فیصلہ شواہد کی بنیاد پر ہوگا۔
فی الحال دونوں فریق اپنے اپنے مؤقف پر قائم ہیں۔ سابق ملازمہ اس مقدمے کو ہراسانی، امتیازی سلوک اور انتقامی برطرفی کا معاملہ قرار دے رہی ہیں، جبکہ کمپنی اسے بے بنیاد دعویٰ کہہ رہی ہے۔ آئندہ عدالتی کارروائی سے ہی واضح ہوگا کہ ان میں سے کون سا مؤقف قانونی جانچ میں برقرار رہتا ہے۔
