صدر آصف علی زرداری آج، 25 اپریل 2026 سے چین کے سرکاری دورے پر روانہ ہو رہے ہیں۔ مختلف میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ دورہ 30 اپریل یا یکم مئی تک جاری رہ سکتا ہے، جبکہ متفقہ طور پر یہ بات سامنے آئی ہے کہ صدر زرداری اپنے قیام کے دوران چانگشا اور سانیا بھی جائیں گے اور چینی قیادت سے اعلیٰ سطح کے مذاکرات کریں گے۔
اس دورے کا بنیادی محور دوطرفہ اقتصادی تعاون، تجارتی روابط، دفاعی تعاون اور چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے جاری منصوبوں کا جائزہ بتایا جا رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق دونوں ممالک نہ صرف موجودہ منصوبوں کی رفتار پر بات کریں گے بلکہ آئندہ تعاون کے نئے راستوں پر بھی غور متوقع ہے۔
اسلام آباد کے لیے یہ دورہ معمول کی سفارتی سرگرمی سے کچھ بڑھ کر دکھائی دیتا ہے۔ پاکستان اس وقت اقتصادی دباؤ، سرمایہ کاری کی ضرورت اور علاقائی غیر یقینی صورت حال کے بیچ اپنے سب سے اہم شراکت داروں میں سے ایک، یعنی چین، کے ساتھ تعلقات کو مزید فعال اور نتیجہ خیز بنانا چاہتا ہے۔ اسی لیے امکان یہی ہے کہ بات چیت میں محض رسمی بیانات نہیں بلکہ عملی تعاون، منصوبوں کی رفتار اور آئندہ ترجیحات بھی زیرِ بحث آئیں گی۔ یہ تجزیاتی نتیجہ دورے کے متوقع ایجنڈے اور حالیہ رپورٹس سے اخذ کیا گیا ہے۔
اس دورے کو ایک اور وجہ سے بھی اہم سمجھا جا رہا ہے: پاکستان اور چین 2026 میں سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل کر رہے ہیں۔ سال کے آغاز میں دونوں ممالک نے اس موقع کی مناسبت سے یادگاری سرگرمیوں اور ایک مشترکہ لوگو کا بھی اجرا کیا تھا، جس سے واضح ہے کہ دونوں حکومتیں اس سال کو علامتی اور سفارتی لحاظ سے خاص اہمیت دے رہی ہیں۔
رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ صدر زرداری کے دورے کے دوران پاک چین تعلقات کے اس وسیع فریم ورک پر زور دیا جائے گا جسے دونوں ممالک عموماً “آل ویدر اسٹریٹجک کوآپریٹو پارٹنرشپ” قرار دیتے ہیں۔ ایسے میں سی پیک کا اگلا مرحلہ، سرمایہ کاری کے نئے مواقع، اور علاقائی تعاون کے سوالات خاص اہمیت اختیار کر جاتے ہیں۔
ابھی تک کسی جامع سرکاری اعلامیے میں تمام ملاقاتوں، معاہدوں یا ممکنہ اعلانات کی مکمل تفصیل سامنے نہیں آئی، اس لیے دورے کے اصل نتائج کا اندازہ آئندہ چند دنوں میں ہو سکے گا۔ تاہم جو بات ابھی سے واضح ہے، وہ یہ ہے کہ اسلام آباد اس دورے کے ذریعے بیجنگ کو یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ پاکستان چین کے ساتھ اپنے تعلقات کو نہ صرف برقرار رکھنا چاہتا ہے بلکہ انہیں مزید وسعت بھی دینا چاہتا ہے۔
