امریکہ اور یورپی یونین نے اہم معدنیات کی رسد سے متعلق تعاون تیز کر دیا ہے، تاکہ بیٹریوں، سیمی کنڈکٹرز، مقناطیسی پرزوں، دفاعی سازوسامان اور دوسری جدید صنعتوں کے لیے درکار خام مال میں چین پر انحصار کم کیا جا سکے۔ اس نئی پیش رفت میں صرف سفارتی ہم آہنگی نہیں، بلکہ تجارتی اور صنعتی سطح پر مشترکہ اقدامات کی بات بھی شامل ہے۔
اس سمت میں ایک اہم قدم اگست 2025 کے امریکہ۔یورپی یونین مشترکہ فریم ورک میں سامنے آیا، جس میں دونوں فریقوں نے تیسرے ممالک کی جانب سے اہم معدنیات پر لگائی جانے والی برآمدی پابندیوں کے مقابلے میں باہمی تعاون بڑھانے کا عہد کیا۔ بیان میں چین کا نام براہِ راست نہیں لیا گیا، لیکن پس منظر واضح تھا، کیونکہ مغربی معیشتیں طویل عرصے سے ان معدنیات کی کان کنی، پراسیسنگ اور ریفائننگ میں چین کی مضبوط گرفت پر تشویش ظاہر کرتی رہی ہیں۔
فروری 2026 میں یہ تعاون مزید آگے بڑھا، جب امریکہ، یورپی کمیشن اور جاپان نے اہم معدنیات کی سپلائی چین کو زیادہ محفوظ اور پائیدار بنانے کے لیے عملی منصوبے تیار کرنے کا اعلان کیا۔ سرکاری بیانات کے مطابق ان منصوبوں میں سرحدی قیمت کی کم از کم حد، معیاری تجارتی ڈھانچے، قیمت کے فرق کو کم کرنے والی معاونت، اور طویل المدتی خریداری کے معاہدوں جیسے اقدامات زیرِ غور ہیں۔ مطلب یہ کہ مغرب اب صرف متبادل سپلائی ڈھونڈنے کی بات نہیں کر رہا، بلکہ پوری منڈی کی ساخت بدلنے کی کوشش کر رہا ہے۔
اس معاملے میں عجلت کی ایک بڑی وجہ عالمی منڈی کی شدید ارتکاز والی ساخت ہے۔ بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے مطابق 2024 تک اہم توانائی معدنیات کی ریفائننگ میں سرفہرست تین ممالک کی اوسط حصہ داری بڑھ کر 86 فیصد ہو چکی تھی، جبکہ چین 20 میں سے 19 اہم تزویراتی معدنیات میں سب سے بڑا ریفائنر ہے اور اس کا اوسط حصہ تقریباً 70 فیصد بتایا گیا ہے۔ اسی ادارے نے یہ بھی کہا ہے کہ عالمی ریفائننگ میں چین کا حصہ مزید بڑھنے کی توقع ہے۔
یہی وجہ ہے کہ امریکہ اور یورپی یونین اب اہم معدنیات کو محض تجارتی مسئلہ نہیں، بلکہ معاشی سلامتی اور صنعتی خودمختاری کا سوال سمجھ رہے ہیں۔ ان معدنیات کے بغیر برقی گاڑیاں، توانائی کے ذخیرے، جدید الیکٹرانکس، دفاعی پیداوار اور کئی دوسری بلند ٹیکنالوجی صنعتیں متاثر ہو سکتی ہیں۔ اسی لیے مغربی اتحاد اب متبادل سپلائی چین، ری سائیکلنگ، نئی سرمایہ کاری اور باہمی تجارتی تعاون کے ذریعے ایک ایسا نظام بنانا چاہتا ہے جس میں کسی ایک ملک کی اجارہ داری کم ہو۔
مختصراً، امریکہ اور یورپی یونین کی یہ شراکت داری چین کے خلاف فوری معاشی دھچکا نہیں، بلکہ ایک طویل المدتی حکمتِ عملی دکھائی دیتی ہے۔ اصل مقصد یہ ہے کہ جدید صنعتوں کے لیے ضروری خام مال کی سپلائی زیادہ محفوظ، متنوع اور سیاسی دباؤ سے نسبتاً آزاد بنائی جائے۔ فی الحال چین کی برتری برقرار ہے، مگر واشنگٹن اور برسلز نے اشارہ دے دیا ہے کہ وہ اس میدان میں اب تماشائی نہیں رہنا چاہتے۔
