پاکستان کے سابق چیئرمین نادرا اور ورلڈ بینک میں ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر کے ٹیکنیکل ایڈوائزر طارق ملک کو اوکٹا کی Identity 25 کی 2026 فہرست میں شامل کر لیا گیا ہے، جو دنیا بھر میں ڈیجیٹل شناخت، اعتماد اور محفوظ آن لائن رسائی کے شعبے میں نمایاں کام کرنے والی شخصیات کو سراہنے کے لیے جاری کی جاتی ہے۔ اوکٹا کی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق یہ فہرست ایسے افراد کے لیے ہے جو شناختی ٹیکنالوجی، معیارات، پالیسی اور عملی نفاذ کے میدان میں اثر ڈال رہے ہیں۔
اس پیش رفت کی اہمیت صرف ایک اعزاز تک محدود نہیں۔ طارق ملک کا نام اس حلقے میں شامل ہوا ہے جہاں عموماً ڈیجیٹل آئیڈنٹیٹی، سائبر سکیورٹی، پبلک سروس ڈلیوری اور پرائیویسی کے عالمی ماہرین کو جگہ ملتی ہے۔ پاکستانی میڈیا رپورٹس کے مطابق ان کے نام اور تصویر کو 4 مئی 2026 کو نیویارک کے ٹائمز اسکوائر یا نیسڈیک اسکرین پر بھی نمایاں کیا جانا تھا، جس نے اس اعتراف کو مزید نمایاں بنا دیا۔
اوکٹا اپنی اس سالانہ فہرست کو شناختی شعبے کے ان لوگوں کے لیے اعزاز قرار دیتا ہے جو بظاہر شہ سرخیوں میں کم نظر آتے ہیں، مگر اصل نظام انہی کے کام پر کھڑا ہوتا ہے۔ کمپنی کے مطابق یہ اعزاز سافٹ ویئر، معیارات، علمی تحقیق اور عملی حکمتِ عملی جیسے مختلف گوشوں میں کام کرنے والوں کو دیا جاتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ڈیجیٹل لین دین، صارف کی رازداری اور محفوظ رسائی عالمی سطح پر زیادہ حساس موضوع بن چکے ہیں۔
طارق ملک کے معاملے میں یہ پہلو خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ ان کا نام پاکستان کے ڈیجیٹل شناختی ڈھانچے، نادرا کی جدید کاری اور عوامی خدمات میں ٹیکنالوجی کے استعمال کے ساتھ جڑا رہا ہے۔ متعدد پاکستانی رپورٹس میں ان کی شناخت ایک ایسے ماہر کے طور پر کی گئی ہے جس نے ڈیجیٹل شناخت، گورننس اور پبلک انفراسٹرکچر کے موضوعات پر مقامی اور عالمی سطح پر اثر ڈالا۔
اس خبر کے ساتھ ایک دلچسپ تکنیکی نکتہ بھی سامنے آیا ہے۔ اوکٹا کی لائیو ویب پیج اس فہرست کو 2026 ایڈیشن کے طور پر پیش کرتی ہے، جبکہ اسی صفحے سے دستیاب پی ڈی ایف کے متن میں بعض جگہ 2025 کا حوالہ نظر آتا ہے۔ بظاہر یہ اشاعتی یا لیبلنگ کا عدم مطابقت معلوم ہوتا ہے، کیونکہ فعال سرکاری صفحہ واضح طور پر موجودہ فہرست کو 2026 کے طور پر دکھا رہا ہے۔
ڈان کے مطابق، طارق ملک نے اپنے انٹرویو میں کہا کہ ڈیجیٹل شناخت کی کامیابی یا ناکامی صرف ٹیکنالوجی پر منحصر نہیں ہوتی بلکہ اس بات پر بھی ہوتی ہے کہ اس کا نظام سیاسی دباؤ کے مقابلے میں کتنا مضبوط اور خودمختار رہتا ہے۔ یہی بات اس اعزاز کو ایک ذاتی کامیابی سے آگے لے جاتی ہے، کیونکہ یہ گورننس، قانونی تحفظات اور عوامی اعتماد کے اس بڑے سوال سے جڑتی ہے جس پر اب دنیا بھر میں بحث ہو رہی ہے۔
پاکستان کے تناظر میں یہ خبر ایک اور سوال بھی اٹھاتی ہے: کیا ملک اپنی ہی تیار کردہ شناختی اور ڈیجیٹل عوامی انفراسٹرکچر کی صلاحیت سے بھرپور فائدہ اٹھا پائے گا؟ طارق ملک کی عالمی سطح پر پذیرائی اس بات کی یاد دہانی ہے کہ پاکستان نے اس شعبے میں صرف ادارے نہیں بنائے، بلکہ ایسے افراد بھی پیدا کیے ہیں جن کے تجربے کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔
