اسلام آباد: وزیر اعظم شہباز شریف نے پیر کے روز اسلام آباد میں سرکاری اداروں کی نجکاری کے حوالے سے ایک اعلیٰ سطح کے جائزہ اجلاس کی صدارت کی اور متعلقہ وزارتوں اور اداروں کو ہدایت کی کہ نجکاری پروگرام کے تمام مراحل کو مقررہ ٹائم لائنز کے اندر مکمل کیا جائے۔ اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزراء خواجہ محمد آصف، جام کمال خان، احد خان چیمہ، سردار اویس خان لغاری سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
حکام نے بریفنگ دی کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئلاینز کی نجکاری اور انتظامی کنٹرول کی منتقلی کا پہلا مالیاتی کلوزنگ عمل 29 جون کو مکمل کر لیا گیا ہے، جبکہ فرسٹ وومن بینک کا عمل بھی طے پا چکا ہے۔ اس کے علاوہ مختلف بجلی فراہم کرنے والی کمپنیوں کی نجکاری پر پیشرفت کا جائزہ لیا گیا، جن کے لیے دلچسپی کے اظہار کی آخری تاریخیں 7 اگست، 21 اگست اور 7 ستمبر مقرر کی گئی ہیں اور سرمایہ کاروں کو 51 سے 100 فیصد تک حصص کی پیشکش کی گئی ہے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ زرعی ترقیاتی بینک کی نجکاری کا اسٹرکچر اس طرح تیار کیا جائے کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کسانوں کے لیے زرعی قرضوں کی فراہمی کا بنیادی مقصد برقرار رہے، جبکہ اسلام آباد، کراچی اور لاہور کے ہوائی اڈوں کی نجکاری کے معاملات کا بھی جائزہ لیا گیا۔
نجکاری کے علاوہ نجی سرمایہ کاری سے متعلق ایک الگ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے ملک میں سرمایہ کاری کے فروغ، چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کی معاونت اور پائیدار اقتصادی ترقی کے لیے ایک پرائیویٹ ایکویٹی فنڈ قائم کرنے کا روڈ میپ جلد از جلد تیار کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے کہا کہ مائننگ، زراعت، لائیو اسٹاک، انرجی اور آئی ٹی کے شعبے معیشت کا اہم حصہ بن سکتے ہیں، اور روایتی بینکنگ سیکٹر کا کردار محدود ہونے کے متبادل کے طور پر نجی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے اقدامات ناگزیر ہیں۔
