کراچی: کراچی کے علاقے سولجر بازار میں ایک تاجر کو مبینہ طور پر واٹس ایپ کے ذریعے 50 لاکھ روپے بھتہ دینے کی دھمکی موصول ہوئی ہے، جس کے بعد شہر کی تاجر برادری میں ایک بار پھر تشویش پیدا ہوگئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق 7 جولائی 2026 کو سولجر بازار کے ایک تاجر سے واٹس ایپ کے ذریعے نامعلوم شخص نے رابطہ کیا اور مبینہ طور پر 50 لاکھ روپے بھتے کا مطالبہ کیا۔ ملزم کی جانب سے تاجر کو رقم ادا کرنے کے لیے دھمکایا بھی گیا۔ پولیس نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے دھمکی دینے والے شخص کی شناخت اور اس کے پسِ پردہ ممکنہ نیٹ ورک کے بارے میں تحقیقات شروع کردی ہیں۔
کراچی میں تاجروں کو واٹس ایپ، فون کالز اور دیگر ڈیجیٹل ذرائع سے بھتے کی دھمکیاں ملنے کے واقعات ماضی میں بھی سامنے آتے رہے ہیں۔ بعض جرائم پیشہ عناصر بیرونِ ملک یا مشکوک نمبروں کے ذریعے تاجروں سے رابطہ کرتے ہیں، جس کے باعث ان تک پہنچنا قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے ایک چیلنج بن جاتا ہے۔
تاجر برادری کا کہنا ہے کہ بھتہ خوری کی دھمکیوں سے کاروباری سرگرمیاں اور شہریوں کا تحفظ متاثر ہوتا ہے۔ حالیہ عرصے میں کراچی کے مختلف علاقوں میں کاروباری افراد کو بھتے کے مطالبات اور سنگین نتائج کی دھمکیوں کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں۔
ماہرین کے مطابق پولیس کو ایسے معاملات کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے واٹس ایپ پیغامات، فون نمبرز، وائس میسجز اور دیگر ڈیجیٹل شواہد کا فرانزک جائزہ لینا چاہیے تاکہ ملزمان اور ان کے مقامی سہولت کاروں تک پہنچا جاسکے۔
حکام کی جانب سے تازہ واقعے کی مزید تحقیقات متوقع ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ آیا یہ دھمکی کسی منظم بھتہ خور گروہ سے منسلک ہے یا کسی انفرادی شخص کی کارروائی ہے۔
کراچی میں ماضی میں بھی تاجروں کو واٹس ایپ کے ذریعے بھتے کی دھمکیاں ملنے کے واقعات رپورٹ ہوچکے ہیں، جن میں ایک تاجر سے 50 لاکھ روپے بھتے کا مطالبہ بھی شامل تھا۔
