لاہور: وزیراعظم شہباز شریف نے توانائی کے شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کے وسیع استعمال اور قابلِ تجدید توانائی کے منصوبوں کو تیز رفتاری سے آگے بڑھانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں بجلی کی قلت اور نظامی کمزوریوں پر قابو پانے کے لیے اب روایتی طریقوں سے آگے بڑھنا ہوگا۔ لاہور میں بجلی کے شعبے میں اصلاحات سے متعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے انہوں نے ترسیلی نظام میں بہتری، لائن لاسز میں کمی اور بجلی کے بلوں کی ادائیگی کے لیے ڈیجیٹل سہولتوں کو فروغ دینے پر بھی زور دیا۔
یہ ہدایات ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب حکومت بجلی کے شعبے میں فوری ریلیف کے ساتھ ساتھ طویل المدتی ساختی اصلاحات پر بھی زور دے رہی ہے۔ یکم مئی کی سرکاری رپورٹوں کے مطابق وزیراعظم نے مربوط بجلی پیداوار توسیعی منصوبہ 2024ء تا 2034ء کا جائزہ لیتے ہوئے سستی، قابلِ اعتماد اور کم لاگت پیداوار پر مبنی حکمتِ عملی کی حمایت کی۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق نظرثانی شدہ منصوبے میں 7,967 میگاواٹ کے مہنگے منصوبے نکال دیے گئے ہیں، جس سے تقریباً 17 ارب ڈالر، یا 4,743 ارب روپے، کی بچت متوقع بتائی گئی ہے۔
حکومتی مؤقف یہ ہے کہ پاکستان کا مسئلہ صرف اتنا نہیں کہ بجلی کم بنتی ہے؛ اصل سوال یہ بھی ہے کہ بجلی کس ذریعے سے پیدا ہو رہی ہے، کتنی مہنگی ہے، اور کیا ترسیلی نظام اسے مؤثر انداز میں صارفین تک پہنچا سکتا ہے۔ اسی لیے تازہ منصوبہ بندی میں شمسی، پن بجلی اور دیگر مقامی ذرائع کو زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے، تاکہ درآمدی ایندھن پر انحصار کم ہو اور بجلی کی مجموعی لاگت نیچے آئے۔
وزیراعظم اس سے پہلے بھی قابلِ تجدید توانائی کو صرف ماحولیاتی نہیں بلکہ معاشی اور تزویراتی ضرورت قرار دے چکے ہیں۔ اپریل کے ایک جائزہ اجلاس میں انہوں نے بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم جیسے منصوبوں پر کام تیز کرنے کی ہدایت دی تھی اور کہا تھا کہ متبادل توانائی کے ذرائع پاکستان کو بیرونی ایندھن کے دباؤ سے بچانے میں مدد دے سکتے ہیں۔ اب لاہور کے اجلاس میں ان کی تازہ ہدایات سے یہ تاثر مزید مضبوط ہوا ہے کہ حکومت توانائی پالیسی کا رخ بتدریج صاف، سستی اور نسبتاً پائیدار بجلی کی طرف موڑنا چاہتی ہے۔
تاہم زمینی حقیقت اب بھی پیچیدہ ہے۔ پاکستان کا بجلی کا شعبہ کئی برس سے گردشی قرضے، مہنگے پیداواری معاہدوں، ترسیلی رکاوٹوں اور تقسیم کار نقصانات جیسے مسائل کا شکار ہے۔ اسی لیے ماہرین کے نزدیک صرف نئے قابلِ تجدید منصوبوں کا اعلان کافی نہیں ہوگا؛ اصل کامیابی تب ہوگی جب گرڈ، تقسیم، وصولیوں اور پالیسی ڈھانچے میں بھی ایک ساتھ بہتری آئے۔ وزیراعظم کی جانب سے ٹیکنالوجی، ڈیجیٹلائزیشن اور نظامی اصلاحات پر بیک وقت زور دینا اسی بڑی تصویر کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
اب حکومت کی کوشش یہ دکھائی دیتی ہے کہ بجلی کے نرخوں میں وقتی ریلیف سے آگے بڑھ کر ایک ایسا نظام بنایا جائے جو کم خرچ بھی ہو، نسبتاً صاف بھی، اور بار بار کے بحرانوں سے کم متاثر ہو۔ لاہور کے اجلاس سے یہی پیغام سامنے آیا کہ حکومت توانائی کے شعبے میں محض جزوی مرمت نہیں، بلکہ سمت کی بڑی تبدیلی چاہتی ہے۔
