کراچی میں گرمی کی شدت ایک بار پھر بڑھ گئی ہے اور شہر میں نمی کے باعث موسم معمول کے درجہ حرارت سے کہیں زیادہ سخت محسوس کیا جا رہا ہے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق شہر میں اصل زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت تقریباً 36.1 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، مگر نمی کے اثر سے “فیلز لائک” درجہ حرارت 45 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا پہنچا، جبکہ بعض رپورٹوں میں یہ شدت 46 ڈگری سینٹی گریڈ کے قریب بتائی گئی۔
پاکستان محکمۂ موسمیات نے کراچی اور سندھ کے کئی اضلاع کے لیے ہیٹ ویو الرٹ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ شہر میں اتوار کو درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ اور پیر کو 41 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی اوپر جا سکتا ہے۔ محکمۂ موسمیات کے مطابق آئندہ دنوں میں سندھ کے بیشتر علاقوں میں موسم گرم، بہت گرم اور خشک رہنے کا امکان ہے۔
کراچی کی گرمی کو زیادہ خطرناک بنانے والی چیز صرف درجہ حرارت نہیں بلکہ ہوا میں نمی بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نسبتاً کم ریکارڈ شدہ درجہ حرارت کے باوجود موسم جسم پر کہیں زیادہ بھاری محسوس ہوتا ہے، خاص طور پر دوپہر کے اوقات میں۔ محکمۂ موسمیات سے منسلک رپورٹوں میں شہریوں کو غیر ضروری طور پر دھوپ میں نکلنے سے گریز اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
انتظامیہ نے بھی ممکنہ صورتِ حال کے پیشِ نظر تیاری شروع کر دی ہے۔ کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن نے تمام اپنے زیر انتظام اسپتالوں میں خصوصی ہیٹ ویو وارڈز قائم کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں تاکہ ہیٹ اسٹروک اور پانی کی کمی کا شکار مریضوں کو فوری طبی امداد فراہم کی جا سکے۔ یہ اقدامات میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کی ہدایات پر کیے جا رہے ہیں۔
ماہرین اور حکام کا کہنا ہے کہ بچوں، بزرگوں، پہلے سے بیمار افراد اور کھلے آسمان تلے کام کرنے والے مزدوروں کے لیے خطرہ زیادہ ہے۔ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ پانی زیادہ پئیں، ہلکے کپڑے پہنیں، دوپہر کے وقت غیر ضروری نقل و حرکت کم کریں اور اگر چکر آنا، متلی، بے ہوشی یا جسمانی کمزوری جیسی علامات ظاہر ہوں تو فوری طبی مدد حاصل کریں۔
یہ گرمی کا محض ایک عارضی جھٹکا نہیں لگ رہا۔ محکمۂ موسمیات سے وابستہ تازہ رپورٹوں میں مئی اور جون کے دوران سندھ، جنوبی پنجاب اور بلوچستان کے بعض حصوں میں زیادہ شدید ہیٹ ویوز کے امکان کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اس تناظر میں کراچی کے لیے موجودہ گرمی ایک ابتدائی انتباہ سمجھی جا رہی ہے، اور اگلے چند دن شہریوں کے لیے خاصے مشکل ثابت ہو سکتے ہیں۔
