حکومتِ پنجاب نے 2026 کے مالیاتی چکر کے لیے ’اپنا گھر‘ ہاؤسنگ سکیم کے آپریشنل فریم ورک کو حتمی شکل دے دی ہے۔ اس پروگرام کا بنیادی ہدف وہ متوسط طبقہ ہے جو تعمیراتی سامان کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث اپنا گھر بنانے کے خواب سے دور ہوتا جا رہا ہے۔
نئی گائیڈ لائنز کے مطابق، اہل امیدوار 60 لاکھ روپے تک کا قرض حاصل کر سکیں گے۔ حکومت نے قرض لینے والوں کے لیے مارک اپ کی شرح 5 فیصد پر فکس کر دی ہے، جبکہ کمرشل بینکوں کے مارک اپ کا باقی بوجھ صوبائی خزانہ برداشت کرے گا۔ اس سبسڈی کا مقصد ماہانہ قسطوں کو ان خاندانوں کی پہنچ میں رکھنا ہے جن کی مجموعی آمدنی 50 ہزار سے ڈیڑھ لاکھ روپے کے درمیان ہے۔
درخواست گزار کے لیے پنجاب کا ڈومیسائل اور پانچ مرلے تک کے پلاٹ کی واضح ملکیت لازمی قرار دی گئی ہے۔ جن افراد کے پاس پہلے سے اپنا گھر موجود ہے، وہ اس سکیم میں شامل نہیں ہو سکیں گے۔ شفافیت برقرار رکھنے کے لیے حکومت نے پنجاب لینڈ ریکارڈز اتھارٹی (PLRA) کے ذریعے ڈیجیٹل تصدیق کا نظام نافذ کیا ہے تاکہ کسی بھی قسم کے غلط کلیم یا فراڈ کا راستہ روکا جا سکے۔
قرض کی واپسی کی مدت 15 سال مقرر کی گئی ہے۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ پہلے تین سال ’گریس پیریڈ‘ کے طور پر کام کریں گے، جس کے دوران قرض لینے والوں کو صرف مارک اپ ادا کرنا ہوگا، جبکہ اصل رقم (Principal amount) کی واپسی چوتھے سال سے شروع ہوگی۔ اس اقدام کا مقصد تعمیراتی مرحلے میں خاندانوں پر مالی بوجھ کم کرنا ہے۔
دوسری جانب، ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ 5 فیصد مارک اپ کے باوجود سیمنٹ اور اسٹیل کی آسمان چھوتی قیمتیں ایک بڑی رکاوٹ ہیں۔ گزشتہ تین سالوں میں پانچ مرلے کے گھر کی تعمیراتی لاگت تقریباً دگنی ہو چکی ہے، جس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا 60 لاکھ روپے کی رقم ایک بنیادی ڈھانچہ کھڑا کرنے کے لیے کافی ہوگی۔
صوبائی وزیرِ ہاؤسنگ نے منگل کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت سیمنٹ مینوفیکچررز کے ساتھ ’بلک پرچیز‘ (تھوک خریداری) کے معاہدوں پر بات چیت کر رہی ہے تاکہ سکیم کے مستفید افراد کو سستا سامان مل سکے۔ ان کا کہنا تھا، "ہم صرف قرض نہیں بانٹ رہے، بلکہ سپلائی چین کو مستحکم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ اس رقم سے واقعی ایک چھت تعمیر ہو سکے۔”
پروگرام کے لیے درخواستوں کی وصولی اگلے ماہ ایک مخصوص پورٹل کے ذریعے شروع ہوگی۔ حکومت کا منصوبہ ہے کہ مالی سال کے وسط تک فنڈز کی پہلی قسط بینکوں کو جاری کر دی جائے تاکہ دسمبر تک پہلے 10 ہزار گھروں کی تعمیر کا کام شروع ہو سکے۔ اس منصوبے کی کامیابی کا دارومدار اب بینکوں کی جانب سے کاغذی کارروائی کی رفتار پر ہے، جو ماضی میں اکثر سرکاری ہاؤسنگ پراجیکٹس میں سب سے بڑی رکاوٹ ثابت ہوئی ہے۔
