کراچی میں کھیلے گئے پاکستان سپر لیگ 2026 کے کوالیفائر میں پشاور زلمی نے کپتان بابر اعظم کی شاندار سنچری کی بدولت 7 وکٹوں پر 221 رنز بنائے، جس کے جواب میں اسلام آباد یونائیٹڈ کو فتح کے لیے 222 رنز درکار تھے۔ اسلام آباد نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا، مگر بابر کی اننگز نے میچ کا رخ زلمی کے حق میں موڑ دیا۔
بابر اعظم نے ذمہ دارانہ مگر تیز رفتار بیٹنگ کرتے ہوئے سنچری اسکور کی اور زلمی کی پوری اننگز کو سنبھالے رکھا۔ درمیانی اوورز میں انہوں نے پہلے محمد حارث کے ساتھ اہم شراکت قائم کی، پھر کوسل مینڈس کے ساتھ ایک اور مؤثر پارٹنرشپ بنا کر اسکور کو مضبوط بنیاد دی۔ مینڈس نے 26 گیندوں پر 41 رنز بنائے، جس سے زلمی آخری اوورز میں مزید جارحانہ انداز اپنا سکی۔
میچ کی لائیو کوریج کے مطابق بابر اعظم نے اپنی سنچری ایک چھکے کے ساتھ مکمل کی، اور ان کی یہ اننگز محض اینکر کا کردار نہیں تھی بلکہ اس میں رفتار، کنٹرول اور بروقت حملہ تینوں شامل تھے۔ یہی وجہ رہی کہ زلمی کا اسکور 200 کے بہت اوپر چلا گیا اور اسلام آباد پر دباؤ بڑھتا گیا۔
اسلام آباد یونائیٹڈ کی جانب سے شاداب خان سب سے کامیاب بولر رہے، جنہوں نے 42 رنز دے کر 3 وکٹیں حاصل کیں، جبکہ رچرڈ گلیسن نے 2 کھلاڑی آؤٹ کیے۔ اس کے باوجود یونائیٹڈ زلمی کی رفتار مکمل طور پر نہ روک سکی، خاص طور پر اس وقت جب بابر اور مینڈس نے درمیانی اوورز میں رنز کی رفتار تیز کر دی۔
اس اننگز کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ تھی کہ یہ ایک کوالیفائر میچ تھا، جہاں جیتنے والی ٹیم کو فائنل تک براہ راست رسائی ملنی تھی۔ ای ایس پی این کرک انفو کے مطابق پشاور زلمی پلے آف مرحلے میں مضبوط پوزیشن کے ساتھ داخل ہوئی تھی، اور بابر اعظم کی یہ سنچری اس مہم میں ان کے کردار کو مزید نمایاں کرتی ہے۔
کراچی میں پی ایس ایل میچز کے لیے پہلی اننگز کا اوسط اسکور 173 کے قریب بتایا گیا تھا، اس لحاظ سے 221 کا مجموعہ نہایت بڑا اور دباؤ پیدا کرنے والا ہدف تھا۔ اب تمام نظریں اسلام آباد یونائیٹڈ کی بیٹنگ لائن پر تھیں کہ آیا وہ اس بڑے ہدف کا تعاقب کر پاتی ہے یا نہیں۔
