کراچی/اسلام آباد: اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے پیر، 27 اپریل 2026 کو اپنی مانیٹری پالیسی میں 100 بیسز پوائنٹس کا اضافہ کرتے ہوئے پالیسی ریٹ 11.50 فیصد کر دیا۔ نئی شرح 28 اپریل سے نافذ ہوگی، اور یہ تقریباً تین سال بعد شرحِ سود میں پہلی بار اضافہ ہے۔
اس فیصلے کا فوری پس منظر مہنگائی کا بڑھتا دباؤ ہے۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے مطابق مارچ 2026 میں ہیڈ لائن مہنگائی 7.3 فیصد رہی، جو فروری کے 7.0 فیصد سے زیادہ تھی۔ یوں افراطِ زر دوبارہ اس حد کے اوپر جاتا دکھائی دیا جسے پالیسی ساز نسبتاً قابلِ قبول دائرہ سمجھتے تھے۔
اس بار اسٹیٹ بینک کا لہجہ بھی خاصا سخت تھا۔ مانیٹری پالیسی کمیٹی نے اشارہ دیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور تنازع نے پاکستان کے معاشی منظرنامے کے لیے خطرات بڑھا دیے ہیں، خاص طور پر عالمی تیل کی قیمتوں، فریٹ چارجز، انشورنس لاگت اور سپلائی چین میں خلل کے ذریعے۔ کمیٹی کے مطابق انہی وجوہات کی بنا پر مہنگائی آئندہ چند سہ ماہیوں میں ہدفی دائرے سے اوپر رہ سکتی ہے، اس لیے سخت مانیٹری پالیسی برقرار رکھنا ضروری سمجھا گیا۔
بازار کے لیے یہ فیصلہ مکمل طور پر غیر متوقع نہیں تھا، مگر اس کی شدت نے کئی مبصرین کو چونکایا۔ رپورٹوں کے مطابق زیادہ تر تجزیہ کار شرحِ سود کو 10.5 فیصد پر برقرار رہنے کی توقع کر رہے تھے، جبکہ محدود تعداد نے اضافے کی پیش گوئی کی تھی۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسٹیٹ بینک نے بیرونی خطرات کو پہلے سے زیادہ سنجیدگی سے لیا۔
یہ فیصلہ اس لیے بھی اہم ہے کہ پچھلے دو برس میں تصویر بالکل الٹ تھی۔ اسٹیٹ بینک جون 2024 میں 22 فیصد کی بلند سطح سے شرحِ سود میں مسلسل کمی کرتا آیا تھا، اور مارچ 2026 کے اجلاس میں اس نے پالیسی ریٹ 10.5 فیصد پر برقرار رکھا تھا۔ اب 11.50 فیصد تک واپسی اس بات کا اشارہ ہے کہ مہنگائی کے خطرات نے شرحِ سود میں نرمی کے دور کو کم از کم عارضی طور پر روک دیا ہے۔
عام صارف اور کاروباری حلقوں کے لیے اس کا مطلب سیدھا ہے: قرض لینا مہنگا ہوگا، فنانسنگ لاگت بڑھے گی، اور مرکزی بینک اب نمو کے مقابلے میں قیمتوں کے استحکام کو ترجیح دیتا دکھائی دے رہا ہے۔ آگے کی سمت اب بڑی حد تک تیل کی عالمی قیمتوں، خطے کی سیاسی صورتِ حال، اور اس بات پر منحصر ہوگی کہ درآمدی لاگت کا دباؤ مقامی مہنگائی میں کتنی تیزی سے منتقل ہوتا ہے۔
