پاکستان نے کہا ہے کہ اس نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ، یعنی آئی ایم ایف، کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدہ کامیابی سے طے کر لیا ہے۔ یہ پیش رفت ملک کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہے کیونکہ اس کے بعد پاکستان کو جاری مالیاتی پروگرام اور موسمیاتی لچک سے متعلق سہولت کے تحت مزید فنڈز ملنے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ تاہم یہ رقم فوری طور پر جاری نہیں ہوگی؛ اس کے لیے ابھی آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کی حتمی منظوری درکار ہے۔
یہ معاہدہ پاکستان کے لیے دو الگ مگر جڑے ہوئے مالیاتی انتظامات سے متعلق ہے۔ ایک طرف ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی کے تحت تیسرے جائزے پر اتفاق ہوا ہے، جبکہ دوسری طرف ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی کے تحت دوسرے جائزے پر بھی پیش رفت ہوئی ہے۔ سادہ لفظوں میں کہیں تو آئی ایم ایف نے یہ اشارہ دیا ہے کہ پاکستان کی معاشی پالیسیوں اور اصلاحاتی اقدامات پر بات چیت ایک ایسے مقام تک پہنچ گئی ہے جہاں اگلا مرحلہ بورڈ کی منظوری ہے۔
اگر آئی ایم ایف کا بورڈ اس معاہدے کی توثیق کر دیتا ہے تو پاکستان کو تقریباً ایک ارب ڈالر ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی کے تحت اور لگ بھگ 210 ملین ڈالر ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی کے تحت مل سکتے ہیں۔ یوں مجموعی طور پر قریب 1.21 ارب ڈالر کی نئی رقم دستیاب ہو سکتی ہے۔ موجودہ معاشی حالات میں یہ رقم صرف ایک عدد نہیں، بلکہ زرمبادلہ کے ذخائر، بیرونی ادائیگیوں اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کے لیے بھی خاصی اہمیت رکھتی ہے۔
وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے اس پیش رفت کو پاکستان کی اقتصادی سمت کے لیے مثبت قرار دیا ہے۔ حکومتی مؤقف یہ ہے کہ یہ معاہدہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان اپنے اصلاحاتی وعدوں پر عمل کر رہا ہے اور عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ اس کی بات چیت درست سمت میں آگے بڑھ رہی ہے۔ سرکاری حلقوں میں اسے ایک ایسے اشارے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے جس سے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی معاشی ساکھ کو سہارا مل سکتا ہے۔
آئی ایم ایف نے بھی اپنے بیان میں پاکستان کی بعض پالیسی کوششوں کو سراہا، خاص طور پر ایسی کوششوں کو جن سے معاشی استحکام برقرار رکھنے اور اعتماد بہتر بنانے میں مدد ملی۔ لیکن تصویر کا دوسرا رخ بھی موجود ہے۔ پاکستان اب بھی کمزور معاشی نمو، قرضوں کی بھاری ذمہ داری، توانائی کے شعبے کے مسائل اور مہنگائی سے جڑے دباؤ جیسے چیلنجز سے پوری طرح نہیں نکلا۔ یہی وجہ ہے کہ اسٹاف لیول معاہدہ ایک اہم قدم ضرور ہے، مگر اسے منزل نہیں کہا جا سکتا۔
اس معاہدے کا ایک اہم پہلو موسمیاتی لچک بھی ہے۔ پاکستان گزشتہ چند برسوں میں شدید سیلاب، غیر معمولی بارشوں اور دوسرے موسمیاتی خطرات سے متاثر ہوا ہے۔ اسی پس منظر میں ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی کو خاص اہمیت دی جا رہی ہے۔ اس کا مقصد صرف مالی مدد دینا نہیں بلکہ ایسی اصلاحات کی حوصلہ افزائی کرنا بھی ہے جن سے پاکستان مستقبل کے موسمیاتی جھٹکوں کا بہتر مقابلہ کر سکے۔
یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدہ ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ تمام رکاوٹیں ختم ہو گئی ہیں۔ اصل فیصلہ اب آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کو کرنا ہے۔ اگر وہاں منظوری مل جاتی ہے تو پاکستان کے لیے نئی قسط جاری ہو سکے گی۔ اس کے بعد بھی حکومت کو ٹیکس وصولیوں میں بہتری، توانائی شعبے میں نظم و ضبط، اخراجات پر کنٹرول اور ساختی اصلاحات جیسے مشکل فیصلوں پر عمل جاری رکھنا ہوگا۔
مختصر یہ کہ پاکستان کے لیے یہ پیش رفت یقیناً اہم ہے۔ اس سے فوری مالی سہارا ملنے کی امید بڑھی ہے، عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ روابط مضبوط ہوئے ہیں، اور معاشی استحکام کے بیانیے کو تقویت ملی ہے۔ لیکن اصل آزمائش اب بھی باقی ہے: کیا حکومت اصلاحات کے اس سفر کو سیاسی اور معاشی دباؤ کے باوجود مسلسل آگے بڑھا سکے گی یا نہیں۔
