اسلام آباد — وزارتِ خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے کہا ہے کہ اگر ایران کو عالمی منڈی میں اپنا تیل اور گیس فروخت کرنے کی اجازت مل جاتی ہے، تو پاکستان اس کا سب سے بڑا فائدہ اٹھانے والا ملک بن کر ابھرے گا۔ اے آر وائی نیوز کے پروگرام ‘باخبر سویرا’ میں گفتگو کرتے ہوئے خرم شہزاد کا کہنا تھا کہ ایران پر عائد پابندیوں میں کسی بھی ممکنہ نرمی اور عالمی معیشت میں اس کی واپسی سے خطے میں توانائی کی فراہمی کے نظام میں بڑی بہتری آسکتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس نوعیت کی پیش رفت سے پاک-ایران توانائی تعاون اور تجارتی راہداریوں کے نئے مواقع کھلیں گے، تاہم ان منصوبوں کے مکمل اثرات ظاہر ہونے میں کچھ وقت لگے گا۔
عوام کو ریلیف منتقل کرنے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر مشیر خزانہ نے بتایا کہ حکومت نے عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں ہونے والی حالیہ کمی کا فائدہ عوام تک پہنچانا شروع کر دیا ہے۔ گزشتہ دو سے تین ہفتوں کے دوران ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مسلسل کئی بار کمی کی گئی ہے، جس میں پہلے مرحلے پر تقریباً 22 روپے فی لیٹر، پھر 10 سے 12 روپے، اور حال ہی میں مزید 4 روپے فی لیٹر کی کٹوتی شامل ہے۔
خرم شہزاد نے اس بات کی بھی وضاحت کی کہ پاکستان میں ایندھن کی قیمتوں کا تعین صرف خام تیل کی قیمت سے نہیں ہوتا، بلکہ اس میں سپلائی چین اور لاجسٹکس کے دیگر عوامل بھی شامل ہوتے ہیں۔ انہوں نے آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی توانائی کی درآمدات کا ایک بڑا حصہ اسی بحری راستے سے گزرتا ہے، اس لیے عالمی سپلائی لائن میں کسی بھی قسم کے تناؤ یا رکاوٹ کی صورت میں بین الاقوامی منڈی کی سستی قیمتوں کا ریلیف عام صارفین تک پہنچنے میں تاخیر ہو جاتی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ عالمی سطح پر ریفائنڈ (تیار) پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں ہمیشہ خام تیل کے تناسب سے نہیں چلتیں، اسی لیے ملکی قیمتوں کا تعین متعدد مارکیٹ انڈیکیٹرز کو دیکھ کر کیا جاتا ہے۔
