پاکستان میں پیر 27 اپریل 2026 کو ایرانی ریال ایک بار پھر غیر معمولی توجہ کا مرکز رہا، کیونکہ مقامی غیر رسمی مارکیٹ میں اس کی قیمت عالمی بینچ مارک کے مقابلے میں کہیں زیادہ دیکھی گئی۔ تازہ مقامی رپورٹنگ کے مطابق ایک کروڑ ایرانی ریال (10,000,000 IRR) اس وقت 8,000 سے 10,000 پاکستانی روپے کے درمیان ٹریڈ ہو رہا ہے، اور یہ کوٹس کراچی، کوئٹہ اور لاہور کے ڈیلر نیٹ ورکس سے منسلک بتائے گئے ہیں۔
یہاں اصل خبر صرف ریٹ نہیں، بلکہ دو الگ مارکیٹ تصویروں کا فرق ہے۔ ایک طرف پاکستان کی مقامی غیر رسمی یا ڈیلر مارکیٹ ہے، جہاں ایرانی ریال بڑے بنڈلز میں خریدا اور بیچا جا رہا ہے۔ دوسری طرف آن لائن کرنسی کنورٹرز ہیں، جہاں 1 ایرانی ریال کی قدر بہت معمولی دکھائی دیتی ہے۔ ایک موجودہ لائیو کنورژن سورس کے مطابق 27 اپریل 2026 کو 1 IRR تقریباً 0.00021 پاکستانی روپے کے برابر تھا، جبکہ ایک پاکستانی ریٹ ٹریکر نے حالیہ اپ ڈیٹس میں اسے قریب 0.0002 روپے دکھایا۔
اسی فرق کی وجہ سے ایرانی ریال کی خبر عام قاری کو بظاہر الجھی ہوئی لگ سکتی ہے۔ اگر کوئی صرف آن لائن کنورژن ریٹ دیکھے تو ایرانی ریال بہت کمزور دکھائی دیتا ہے، لیکن اگر وہی شخص پاکستان کی مقامی اوپن یا غیر رسمی مارکیٹ میں بڑے حجم کے سودے دیکھے تو ریال ایک نمایاں پریمیم پر ٹریڈ ہوتا نظر آتا ہے۔ ARY کی رپورٹ کے مطابق یہی غیر معمولی فرق آج بھی برقرار ہے۔
مارکیٹ رپورٹنگ میں اس فرق کی چند وجوہات بھی سامنے آئی ہیں۔ ان میں سرحدی تجارت میں ریال کی طلب، باقاعدہ بینکاری یا سیٹلمنٹ چینلز تک محدود رسائی، اور بعض صورتوں میں قلیل مدتی سٹے بازی شامل بتائی گئی ہے۔ اسی رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستانی غیر رسمی مارکیٹ میں ایرانی ریال کی قیمت عالمی معیار کے مقابلے میں کئی گنا اوپر جا چکی ہے، جس سے یہ صرف ایک کرنسی ریٹ کی خبر نہیں رہتی بلکہ ایک مقامی مارکیٹ anomaly بن جاتی ہے۔
مجموعی طور پر 27 اپریل 2026 کی تصویر یہی بنتی ہے کہ پاکستان میں ایرانی ریال کی قیمت کو سمجھنے کے لیے صرف فی ریال آن لائن ریٹ دیکھنا کافی نہیں۔ مقامی مارکیٹ میں اصل لین دین بڑے حجم میں ہو رہا ہے، اور وہی وجہ ہے کہ ایک کروڑ ریال کے 8 سے 10 ہزار روپے والے ریٹ کو زیادہ عملی حوالہ سمجھا جا رہا ہے۔
