اسلام آباد — وفاقی وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے بدھ کے روز ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے نئے مالی سال کے وفاقی بجٹ کو "مثبت اور ریلیف پر مبنی” قرار دیا ہے جو ملک کو معاشی ترقی اور استحکام کی راہ پر گامزن کرے گا۔ وزیرِ مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی کے ہمراہ پریس بریفنگ دیتے ہوئے عطا اللہ تارڑ نے بجٹ پر بلاوجہ تنقید کرنے والے حلقوں کو مسترد کیا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ دو سال قبل جب ملک ڈیفالٹ (دیوالیہ ہونے) کے دہانے پر تھا، تو مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے میاں نواز شریف کے وژن اور وزیرِ اعظم شہباز شریف کی قیادت میں معیشت کو سنبھالا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ریلیف دینے کے لیے حالات کا انتظار نہیں کیا بلکہ مسلسل محنت سے گنجائش پیدا کی ہے۔
وزیرِ اطلاعات نے بتایا کہ وزیرِ اعظم کے وژن کے مطابق ٹیکس دہندگان پر مزید بوجھ ڈالنے کے بجائے ٹیکس چوری روکنے کے لیے ایف بی آر میں انقلابی اصلاحات کی گئی ہیں۔ میرٹ پر بھرتیاں کی گئی ہیں اور پورٹس (بندرگاہوں) سے لے کر انکم ٹیکس دفاتر تک "فیس لیس” (بلا تعامل) ڈیجیٹل نظام نافذ کر دیا گیا ہے، جس سے اب برآمد کنندگان کا سامان کسٹمز حکام سے ملے بغیر چند دنوں میں کلیئر ہو جاتا ہے۔ ماضی میں اندھا دھند منافع کمانے والے مگر ٹیکس نہ دینے والے بڑے شعبوں کے خلاف سخت ترین انفورسمنٹ کی گئی ہے:
-
شوگر ملز: چینی کے کارخانوں کے اندر کیمرے اور جدید آئی ٹی سسٹم نصب کر کے ہر بوری پر کیو آر (QR) کوڈ لگایا گیا، جس سے صرف شوگر ملز سے 60 ارب روپے کا اضافی ٹیکس وصول کیا گیا۔
-
تمباکو کی صنعت: سگریٹ انڈسٹری میں ہونے والے 200 ارب روپے کے ٹیکس نقصان کو روکنے کے لیے غیر قانونی تجارت پر چھاپے مارے گئے۔ سمنٹ اور بیوریجز (مشروبات) کی صنعتوں میں بھی ایسا ہی نظام لایا جا رہا ہے۔
-
مقدمات کی بازیابی: نئے ٹریبیونلز کے قیام اور قانونی کارروائی کے ذریعے عدالتوں سے حکمِ امتناعی (اسٹے آرڈرز) ختم کروائے گئے، جس کے نتیجے میں گزشتہ ایک سال کے دوران انفورسمنٹ کے ذریعے ریکارڈ 800 ارب روپے قومی خزانے میں جمع کروائے گئے۔
وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی اور عطا اللہ تارڑ نے بجٹ میں دیے گئے عوامی ریلیف کی تفصیلات بتائیں:
-
تنخواہ دار طبقہ: 50,000 سے 100,000 روپے ماہانہ کمانے والے ملازمین کے لیے ٹیکس کی شرح کو صرف 1 فیصد کر دیا گیا ہے، جبکہ اس سے اوپر کے سلیبس میں بھی ٹیکس کم کیا گیا ہے۔
-
ایکسپورٹرز: ملکی برآمدات بڑھانے کے لیے برآمد کنندگان پر عائد ایڈوانس ٹیکس اور سپر ٹیکس کو مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔
-
ہاؤسنگ اور سماجی شعبہ: 5 سے 10 مرلہ کے مکانات خریدنے والوں کے لیے ٹیکسوں میں کمی کی گئی ہے، جبکہ "اپنا گھر” اسکیم کے لیے 90 ارب روپے جاری کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ خواتین کے استعمال کی اشیاء اور مانع حمل ادویات پر عائد ‘پنک ٹیکس’ کو بھی مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ نئے بجٹ میں سیکیورٹی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے صوبائی فنڈز کی منتقلی کو تین سال کے لیے منجمد کیا گیا ہے، جبکہ ٹیکس نیٹ کو بڑھانے کے لیے سوشل میڈیا سے ہونے والی آمدنی پر ٹیکس، چھوٹے دکانداروں کے لیے فکسڈ ٹیکس اور لگژری الیکٹرک گاڑیوں کی امپورٹ پر سخت ڈیوٹیز عائد کرنے کی تجاویز شامل ہیں۔
