ٹرمپ میڈیا اینڈ ٹیکنالوجی گروپ—جو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ کی مالک کمپنی ہے—نے تیسری سہ ماہی کے دوران 40 کروڑ ڈالر کے خالص نقصان کی رپورٹ جاری کی ہے۔ یہ اعداد و شمار کمپنی کی مارکیٹ ویلیو اور اس کی اصل آمدنی کے درمیان وسیع خلیج کو واضح کرتے ہیں۔
کمپنی نے 30 ستمبر کو ختم ہونے والی تین ماہ کی مدت میں صرف 10 لاکھ ڈالر کی آمدنی ظاہر کی، جو اس کے آپریٹنگ اخراجات کا محض ایک معمولی حصہ ہے۔ کمپنی کے مطابق، 40 کروڑ ڈالر کا بڑا حصہ قانونی تنازعات کے تصفیے اور پرانے معاہدوں کے خاتمے سے متعلق غیر نقد اخراجات (non-cash expenses) کی مد میں خرچ ہوا۔
اسٹاک مارکیٹ میں ‘DJT’ کے نام سے ٹریڈ ہونے والے اس کمپنی کے حصص مسلسل اتار چڑھاؤ کا شکار ہیں۔ سرمایہ کاروں کا رویہ کمپنی کی مالیاتی رپورٹوں کے بجائے ڈونلڈ ٹرمپ کی سیاسی مہم اور مقبولیت سے جڑا ہوا ہے۔ رواں سال کے اوائل میں جب کمپنی پبلک ہوئی، تو حصص خریدنے والے سرمایہ کاروں کو قیمتوں میں شدید جھول کا سامنا رہا ہے، جس کا کمپنی کی معمولی اشتہاری آمدنی سے دور دور تک کوئی تعلق نظر نہیں آتا۔
بڑے مالی خسارے کے باوجود، کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس کی نقد پوزیشن مستحکم ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ کمپنی پر کوئی قرض نہیں ہے اور اس کے پاس تقریباً 67 کروڑ ڈالر نقد موجود ہیں، جو اسے مستقبل میں کام جاری رکھنے کے لیے کافی ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ کمپنی کی توجہ فوری منافع کے بجائے طویل مدتی ترقی اور تکنیکی بہتری پر مرکوز ہے۔
وال سٹریٹ کے تجزیہ کار اس دعوے کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ٹروتھ سوشل کو پہلے سے قائم سوشل میڈیا کے بڑے اداروں سے سخت مقابلے کا سامنا ہے۔ پلیٹ فارم اب تک اتنی اشتہاری آمدنی حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے جو اس کے انفراسٹرکچر کے اخراجات کو پورا کر سکے، چہ جائیکہ اس کی اربوں ڈالر کی مارکیٹ کیپٹلائزیشن کا جواز پیش کیا جا سکے۔ فی الحال، یہ پلیٹ فارم ایک تجارتی ادارے سے زیادہ سابق صدر کے سیاسی بیانیے کے لیے ایک ڈیجیٹل پلیٹ فارم کا کردار ادا کر رہا ہے۔
کمپنی کی مالی پائیداری کا راستہ تاحال غیر واضح ہے۔ جب تک کاروباری ماڈل میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں آتی یا صارفین کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ نہیں ہوتا، سہ ماہی نقصانات کا سلسلہ جاری رہے گا۔ اب یہ سرمایہ کاروں پر منحصر ہے کہ وہ اسے ایک ٹیکنالوجی کمپنی سمجھ کر سرمایہ کاری کر رہے ہیں یا صرف ایک سیاسی بیان کی حمایت کر رہے ہیں۔
